hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2956

.

الطحاوي

2956
Al Tahawi
۲۹۵۶ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ‘ (عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ أَسَدٍ قَالَ : نَزَلْتُ وَأَہْلِیْ، بَقِیْعَ الْغَرْقَدِ‘ فَقَالَ لِیْ أَہْلِیُ : اذْہَبْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْہُ لَنَا شَیْئًا نَأْکُلْہُ‘ وَجَعَلُوْا یَذْکُرُوْنَ حَاجَتَہُمْ .فَذَہَبْتُ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْت عِنْدَہُ رَجُلًا یَسْأَلُہٗ‘ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : لَا أَجِدُ مَا أُعْطِیک فَوَلَّی الرَّجُلُ وَہُوَ مُغْضَبٌ وَہُوَ یَقُوْلُ : لَعَمْرِیْ إِنَّک لَتُفَضِّلُ مَنْ شِئْت .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہُ لَیَغْضَبُ عَلٰی أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِیْہٖ‘ مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ‘ وَعِنْدَہٗ أُوقِیَّۃٌ أَوْ عِدْلُہَا فَقَدْ سَأَلَہَا إِلْحَافًا .قَالَ الْأَسَدِیُّ : فَقُلْتُ لِلَّقْحَۃِ لَنَا خَیْرٌ مِنْ أُوقِیَّۃٍ قَالَ : وَالْأُوقِیَّۃُ أَرْبَعُوْنَ دِرْہَمًا‘ قَالَ : فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْہُ .فَقَدِمَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِشَعِیْرٍ وَزَبِیْبٍ وَزُبْدٍ‘ فَقَسَمَ لَنَا مِنْہُ حَتّٰی أَغْنَانَا اللّٰہُ) .
٢٩٥٦: عطاء بن یسار نے بنی اسد کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ میں اپنے اہل و عیال سمیت بقیع غرقد میں اترا مجھے میرے گھر والوں نے کہا تم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاؤ اور ان سے کھانے کی کوئی چیز مانگ لاؤ اور گھر والے اپنی ضروریات ذکر کرنے لگے پس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا میں نے آپ کے ہاں ایک سائل کو پایا جو کہہ رہا تھا مجھے کچھ دو اور آپ فرما رہے تھے میرے پاس تجھے دینے کو کچھ نہیں وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا اور وہ ناراضی سے کہہ رہا تھا۔ میری عمر کی قسم ! تم جس پر چاہتے ہو مہربانی کرتے ہو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اس بات پر ناراض ہے کہ میں اسے دینے کے لیے کچھ نہیں پاتا جس آدمی نے ایسے وقت سوال کیا جبکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا بدل ہو تو وہ اصرار سے سوال کرنے والوں میں شمار ہوگا اسدی کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہمارے پاس اوقیہ سے بہتر گابھن اونٹنی موجود ہے جبکہ اوقیہ چالیس درہم کے برابر وزن چاندی کو کہا جاتا ہے اسدی کہتے ہیں میں لوٹ آیا اور آپ سے سوال نہ کیا۔ اس کے بعد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو کشمش آئی اس کو ہم میں تقسیم فرمایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کردیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٤‘ نمبر ١٦٢٧۔