۲۹۵۷ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُؤَمَّلٌ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ الْہَجَرِیِّ‘ عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ‘ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : (الْأَیْدِیْ ثَلاَثٌ : فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا‘ وَیَدُ الْمُعْطِی الَّتِیْ تَلِیْہَا‘ وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلَی إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ فَاسْتَعْفِفْ مَا اسْتَطَعْتُ، وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ‘ وَلَا تُلَامُ عَلٰی کَفَافٍ وَاذَا آتَاک اللّٰہُ خَیْرًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَکَانَتَ الْمَسْأَلَۃُ الَّتِیْ أَبَاحَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ کُلِّہَا ہِیَ لِلْفَقْرِ لَا غَیْرِہٖ۔ وَکَانَ تَصْحِیْحُ مَعَانِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ - عِنْدَنَا - یُوْجِبُ أَنَّ مَنْ قَصَدَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہٖ (لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِذِیْ مِرَّۃٍ سَوِیٍّ) ، ہُوَ غَیْرُ مَنِ اسْتَثْنَاہُ مِنْ ذٰلِکَ فِیْ حَدِیْثِ وَہْبِ بْنِ خَنْبَشٍ بِقَوْلِہٖ (إِلَّا مِنْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ‘ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ) وَأَنَّہٗ الَّذِیْ یُرِیْدُ بِمَسْأَلَتِہٖ أَنْ یُکْثِرَ مَالَہٗ، وَیَسْتَغْنِیَ مِنْ مَالِ الصَّدَقَۃِ‘ حَتّٰی تَصِحَّ ھٰذِہِ الْآثَارُ‘ وَتَتَّفِقَ مَعَانِیْہَا وَلَا تَتَضَادَّ .وَھٰذَا الْمَعْنَی الَّذِیْ حَمَلْنَا عَلَیْہِ وُجُوْہَ ھٰذِہِ الْآثَارِ‘ ہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی. فَإِنْ سَأَلَ سَائِلٌ عَنْ مَعْنَیْ حَدِیْثِ عُمَرَ الْمَرْوِیِّ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَحْوٍ مِنْ ھٰذَا .
٢٩٥٧: ابوالاحوص نے عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاتھ تین قسم ہیں۔ !: اللہ کا ہاتھ تو بلندیوں والا ہے۔ ": دینے والے کا ہاتھ جو اس (یداللہ) کے قریب ہے۔#: سائل کا ہاتھ نیچا ہے اور قیامت تک نیچا ہے جہاں تک ہو سکے سوال سے بچو اپنے نفس کو عاجز مت قرار دے گزراوقات موجود ہو تو تو قابل ملامت نہیں جب تیرے پاس مال آجائے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سوال صرف فقر کی وجہ سے مباح ہے نہ کچھ اور تو روایات کے معانی کی درستی کا تقاضہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا : لا تحل الصدقۃ لذی مرۃ سویٍ۔۔۔ تو اس سے مراد وہ لوگ نہیں کہ جن کو روایت وھب بن خنبش میں الآمن فقر مدقع اوغرم مفظع سے مستثنیٰ فرمایا ہے بلکہ وہ شخص مراد ہے جو سوال کر کے مال کی کثرت اور مال صدقہ سے مالدار بننا چاہتا ہے تاکہ یہ روایات درست ثابت ہوں اور ان کے معانی یکساں ہو کر تضاد ختم ہو اور ان روایات سے جن وجوہ کو ہم نے ذکر کیا وہی درست مفہوم ہے اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا مسلک ہے۔ اگر معترض یہ کہے عمر (رض) والی روایت کا پھر کیا مفہوم بنے گا۔ جو ذیل میں ہے۔
تخریج : مسلم فی الزکوۃ نمبر ٩٤‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٨‘ ١٦٤٨؍١٦٤٩۔
حاصل روایات : ان روایات مزیدہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سوال کی اباحت کا سبب فقر ہے تندرست و معذور کا اس میں فرق نہیں ہے۔
ان آثار کے معانی میں تطبیق کا راستہ وہی بہتر ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے کہ لاتحل الصدقہ لدی مرۃ سوی میں جس کا قصد کیا گیا ہے وہ اس وہب بن خنش (رض) والی روایت کے مستثنیات سے الگ ہیں اور جن کے لیے حرام کیا گیا وہ وہی لوگ ہیں جو مال کو بڑھانے کی غرض سے سوال کریں اور مالدار بننے کے لیے سوال کریں بھوک کو روکنے سد رمق والے لوگ اس میں شامل نہیں ان کو تندرست ہوں یا بیمار سوال حلال ہے۔
یہی ہمارے ائمہ ابوحنیفہ و ابو یوسف و محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔