۲۹۶۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ‘ وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .وَمِمَّنْ ذَہَبَ إِلٰی ھٰذَا الْقَوْلِ أَیْضًا‘ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ‘ وَزُفَرُ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ مِنْہُمْ أَبُوْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ‘ فَقَالُوْا : لَا صَدَقَۃَ فِی الْخَیْلِ السَّائِمَۃِ أَلْبَتَّۃَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہِ لِقَوْلِہِمْ‘ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (وَلَمْ یَنْسَ حَقَّ اللّٰہِ فِیْہَا) أَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ الْحَقُّ حَقًّا سِوَی الزَّکٰوۃِ .فَإِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٢٩٦٨: ابو عمر اور حجاج بن منہال دونوں نے حماد بن سلمہ (رض) سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے۔ اس قول کو جن علماء نے اختیار کیا وہ امام ابوحنیفہ اور زفرر رحمھما اللہ ہیں۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کیا ان کا امام ابو یوسف اور محمد بن الحسن جواب ہیں انھوں نے کہا کہ چرنے والے گھوڑوں میں بالکل زکوۃ نہیں۔ اول قول کے قائلین کے خلاف اسی روایت کے الفاظ ” لم ینس حق اللہ فیھا ‘ ‘ سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست ہے کہ اس حق سے مراد زکوۃ کے علاوہ ہو چنانچہ جناب رسول اللہ سے مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات و آثار : ان روایات میں اللہ تعالیٰ کے جس حق کا ذکر ہے وہ زکوۃ ہے کیونکہ اس کے علاوہ اموال میں اور کوئی حق لازم نہیں اور حضرت عمر (رض) کے عمل نے اس کی توثیق کردی پس چرنے والے نر ‘ مادہ گھوڑوں پر زکوۃ ہوگی۔