hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2969

.

الطحاوي

2969
Al Tahawi
۲۹۶۹ : مَا حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ‘ عَنْ عَامِرٍ‘ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ: (فِی الْمَالِ حَقٌّ سِوَی الزَّکٰوۃِ وَتَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ (لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ) إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ) .فَلَمَّا رَأَیْنَا الْمَالَ قَدْ جُعِلَ فِیْہِ حَقٌّ سِوَی الزَّکَاۃِ‘ اُحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ الْحَقُّ‘ الَّذِیْ ذَکَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْخَیْلِ‘ ہُوَ ذٰلِکَ الْحَقُّ أَیْضًا. وَحُجَّۃٌ أُخْرٰی أَنَّ الزَّکَاۃَ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ رَوَیْنَاہُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ إِنَّمَا ہُوَ فِی الْخَیْلِ الْمُرْتَبِطَۃِ‘ لَا فِی الْخَیْلِ السَّائِمَۃِ .وَحُجَّۃٌ أُخْرٰی‘ أَنَّا قَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الْاِبِلَ السَّائِمَۃَ أَیْضًا فَقَالَ (فِیْہَا حَقٌّ) فَسُئِلَ عَنْ ذٰلِکَ الْحَقِّ مَا ہُوَ فَقَالَ " (إِطْرَاقُ فَحْلِہَا‘ وَإِعَارَۃُ دَلْوِہَا‘ وَمَنِیْحَۃُ سَمِیْنِہَا) .
٢٩٦٩: عامر نے فاطمہ بنت قیس (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا مال میں زکوۃ کے علاوہ حق ہے اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : لیس البر ان تولو وجوہکم (البقرہ : ١٧٧) ہم جانتے ہیں کہ مال میں زکوۃ کے علاوہ حق بھی رکھا گیا ہے۔ تو اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے گھوڑوں میں جو حق ذکر کیا گیا ہے وہ زکوۃ کے علاوہ ہو ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی جو روایت ذکر کی گئی ہے وہ باندھنے والے گھوڑوں سے متعلق ہے چرنے والوں سے متعلق نہیں ہے۔ ایک اور دلیل یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرنے والے اونٹوں کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا ان میں حق ہے ‘ ‘ پھر آپ سے اس حق کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا : نر اونٹ جفتی کے لیے دینا اور پانی کے لیے عاریتًا ڈول دے دینا ‘ اور دودھ والا جانور استعمال کے لیے دے دینا۔
تخریج : ابن ماجہ فی الزکوۃ باب ٣۔
جب مال میں زکوۃ کے علاوہ حق بتلایا گیا ہے تو حق اللہ سے مراد جو گھوڑوں کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا وہ وہی زکوۃ کے علاوہ ثابت ہونے والا حق ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ ابوہریرہ (رض) والی روایت میں جن کا تذکرہ ہے اس سے باندھ کر چارہ ڈالے جانے والے گھوڑے مراد ہیں اس سے چرنے والے گھوڑے مراد ہی نہیں باندھے جانے والے گھوڑوں میں تو بالاتفاق زکوۃ نہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چرنے والے اونٹوں کا بھی تذکرہ فرمایا اور ان کے متعلق فرمایا ان میں حق ہے پھر اس حق کا سوال کیا گیا کہ وہ کیا ہے ؟ تو فرمایا نر گھوڑے کو جفتی کے لیے اذاد چھوڑنا اس کو پانی پلانے کے لیے ڈول عاریتاً دے دینا اس میں سے موٹے کو استعمال کے لیے دینا۔
تخریج : مسلم فی الزکوۃ نمبر ٢٨۔
یہ سابقہ دلیل کا جواب ہے۔ حق اللہ جس کا تذکرہ روایت میں پایا جاتا ہے زکوۃ کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ یہ روایت ظاہر کر رہی ہے۔
اسی روایت کو جابر (رض) نے بھی نقل کیا۔