۲۹۷۰ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ‘ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَلَمَّا کَانَتِ الْاِبِلُ أَیْضًا فِیْہَا حَقٌّ غَیْرُ الزَّکَاۃِ‘ اُحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ کَذٰلِکَ‘ الْخَیْلُ .وَأَمَّا مَا احْتَجُّوْا بِہٖ، مِمَّا رَوَیْنَاہُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ فَلاَ حُجَّۃَ لَہُمْ فِیْہِ أَیْضًا عِنْدَنَا‘ لِأَنَّ عُمَرَ لَمْ یَأْخُذْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ‘ عَلٰی أَنَّہٗ وَاجِبٌ عَلَیْہِمْ .وَقَدْ بَیَّنَ السَّبَبَ الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ أَخَذَ ذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ‘ حَارِثَۃُ بْنُ مُضَرِّبٍ.
٢٩٧٠: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ جب اونٹوں میں بھی زکوۃ کے علاوہ حق ہے۔ تو یہ احتمال ہے کہ گھوڑوں میں بھی اسی طرح ہو ۔ رہی وہ روایت جس کو حضرت عمر (رض) سے نقل کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حضرت عمر (رض) نے ان سے اس لیے نہیں لیا کہ وہ ان کے ذمہ واجب ہے۔ حارثہ بن مضرب نے آپ سے وہ سبب بھی کھول دیا جس کی بناء پر حضرت عمر (رض) نے ان سے لیا تھا ۔ روایت ذیل میں ہے۔
یہ ہے جب اونٹوں میں بھی زکوۃ کے علاوہ حق ہے تو گھوڑوں کے متعلق بھی یہی احتمال ہے پس حق سے زکوۃ کو متعین مراد لینا درست نہ رہا۔
دوسری دلیل کا جواب : روایت عمر (رض) میں بھی اس بات کی دلیل نہیں کہ گھوڑوں میں زکوۃ لازم ہے کیونکہ عمر (رض) کے لینے سے یہ کہاں لازم آیا کہ وہ زکوۃ تھی ہم حارثہ بن مضرب کی روایت پیش کرتے ہیں جو گھوڑوں پر وصول کئے جانے والے اس مال کی حقیقت پر روشنی ڈالے گی۔ ملاحظہ ہو۔