hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2986

.

الطحاوي

2986
Al Tahawi
۲۹۸۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَالْحِمَّانِیُّ‘ قَالَا : ثَنَا أَبُوَ الْأَحْوَصِ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ‘ عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ جَدِّہٖ أَبِیْ أُمِّہٖ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ عُشُوْرٌ‘ إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلٰی أَہْلِ الذِّمَّۃِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ: فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْاِمَامَ لَیْسَ لَہٗ أَنْ یَبْعَثَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ مَنْ یَتَوَلّٰی عَلٰی أَخْذِ صَدَقَاتِہِمْ‘ وَلٰـکِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ بِالْخِیَارِ‘ إِنْ شَائُ وْا أَدَّوْہَا إِلَی الْاِمَامِ فَتَوَلَّی وَضْعَہَا فِیْ مَوَاضِعِہَا الَّتِیْ أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا‘ وَإِنْ شَائُ وْا فَرَّقُوْہَا فِیْ تِلْکَ الْمَوَاضِعِ .وَلَیْسَ لِلْاِمَامِ أَنْ یَأْخُذَہَا مِنْہُمْ بِغَیْرِ طِیْبِ أَنْفُسِہِمْ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٢٩٨٦: حرب بن عبیداللہ نے اپنے دادا ابو امیہ سے ‘ انھوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں پر عشر نہیں عشور تو اہل ذمہ پر ہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ امام المسلمین کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو مسلمانوں سے زکوۃ وصول کرنے پر مقرر کرے ۔ بلکہ مسلمان اس میں خود مختار ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو امام کو دیں پھر وہ مذکورہ مصارف پر خرچ کرے جہاں اللہ تعالیٰ نے صرف کا حکم دیا ہے اور اگر وہ چاہیں تو خود خرچ کریں امام کو ان کی مرضی کے خلاف لینے کا قطعاً حق نہیں بنتا۔ انھوں مندرجہ بالا روایات جو ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہیں ان سے استدلال کیا اور اسی طرح ان آثار سے جو حضرت عمر (رض) سے وارد ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی الامارۃ باب ٣٣‘ ترمذی فی الزکوۃ باب ١١‘ مسند احمد ٤٣٣‘ ٤٧٤؍٣٢٣۔
ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم وقت کو اختیار نہیں کہ وہ مسلمانوں پر کسی کو زبردستی مسلط کر کے ان سے عشر وصول کرے البتہ بطیب خاطر اگر وہ دیں یا خود صدقات کے مقامات پر لگائیں تو یہ ان کی مرضی پر موقوف ہے حضرت عمر (رض) کا قول اس کا موید ہے۔