hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2987

.

الطحاوي

2987
Al Tahawi
۲۹۸۷ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : أَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ عَمْرٍو‘ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ‘ قَالَ قُلْت لِابْنِ عُمَرَ‘ أَکَانَ عُمَرُ یُعَشِّرُ الْمُسْلِمِیْنَ ؟ قَالَ : لَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لِلْاِمَامِ أَنْ یُوَلِّیَ أَصْحَابَ الْأَمْوَالِ صَدَقَاتِ أَمْوَالِہِمْ‘ حَتّٰی یَضَعُوْہَا مَوَاضِعَہَا‘ وَلِلْاِمَامِ أَیْضًا أَنْ یَبْعَثَ عَلَیْہَا مُصَدِّقِیْنَ‘ حَتّٰی یَعْشُرُوْہَا‘ وَیَأْخُذُوا الزَّکَاۃَ مِنْہَا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لَہُمْ‘ أَنَّ الْعُشْرَ الَّذِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَفَعَہُ عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ‘ ہُوَ الْعَشْرُ الَّذِیْ کَانَ یُؤْخَذُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ‘ وَہُوَ خِلَافُ الزَّکَاۃِ‘ وَکَانُوْا یُسَمُّوْنَہُ الْمَکْسَ‘ وَہُوَ الَّذِیْ رَوٰی عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ فِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا۔
٢٩٨٧: مسلم بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کیا عمر (رض) مسلمانوں سے عشر وصول کرتے تھے انھوں نے کہا نہیں۔ دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ امام المسلمین کو اس بات کا اختیار ہے کہ مال والوں کو خود ان مصارف زکوۃ پر صرف کی اجازت دے اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ عامل و ساعی بھیج کر ان سے زکوۃ کو وصول کرے۔ قول اوّل کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں سے جو عشر معاف فرمایا اس سے مراد وہ ٹیکس تھا جو زمانہ جاہلیت میں سردار وصول کرتے تھے ۔ وہ زکوۃ نہ تھی بلکہ وہ ٹیکس ہی کہلاتا تھا اور یہی وہ روایت ہے جس کو حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا۔ روایت ذیل میں ہے۔
حاصل اثر : اس اثر کا حاصل بھی یہی ہے کہ مسلمانوں پر عشر نہیں نہ ان سے وصول کیا جائے گا۔
امام اموال ظاہرہ و باطنہ کی زکوۃ عامل کے ذریعہ زبردستی بھی وصول کرسکتا ہے بشرطیکہ بیت المال ہو اور وہ اس میں جمع کرائی جائے اس پر یہ روایات شاہد ہیں۔
اولاً فریق اوّل کے قول کا جواب پیش کرتے ہیں۔
الجواب : گزشتہ روایات میں جس کی ممانعت مذکور ہے وہ وہی عشر ہے جو جاہلیت میں وصول کیا جاتا تھا یہ مکس کہلاتا تھا یہ اسی طرح کا ظالمانہ ٹیکس تھا جیسا آج کل کے ظالمانہ ٹیکس ہیں اسلام نے اس کا خاتمہ کردیا اس کا زکوۃ و عشر اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ اور عقبہ بن عامر (رض) کی روایت میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔