۲۹۹۳ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ‘ قَالَ : ثَنَا عُیَیْنَۃُ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ‘ قَالَتْ : (بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا فِیْ أَوَّلِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ : خُذْ اَلشَّارِفَ وَالْبِکْرَ‘ وَذَوَاتِ الْعَیْبِ‘ وَلَا تَأْخُذْ حَزَرَاتِ النَّاسِ) .قَالَ ہِشَامٌ : أَرٰی ذٰلِکَ لِیَسْتَأْلِفَہُمْ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ .
٢٩٩٣: ہشام نے عروہ سے انھوں نے عائشہ (رض) سے نقل کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شروع اسلام میں (جب مدینہ منورہ میں زکوۃ فرض ہوئی) ایک عامل بھیجا اور اس کو فرمایا ان کے اموال سے بوڑھی اونٹنی اور جوان سال اونٹ اور عیب والے جانور وصول کرنا لوگوں کے اعلیٰ اموال سے مت لینا۔ ہشام راوی کہتے ہیں میرے خیال میں یہ ان کو مانوس کرنے کے لیے شروع میں فرمایا آئندہ ایک طریقہ جاری ہوا۔
اس باب کو یہاں اس لیے قائم فرمایا تاکہ بتلایا جائے کہ ساعی و عامل کو صدقات میں کس قسم کے جانور وصول کرنے چاہئیں۔ اس کے متعلق علماء کی دو رائے ہیں۔
نمبر 1: امام مالک اور ظاہریہ کے ہاں جوان سال اونٹ ‘ بوڑھے اونٹ اور عیب دار اونٹ تینوں ملا کر لیے جائیں گے۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں عمدہ اوسط ‘ گھٹیا درجہ کے جانوروں میں سے درمیانے درجے کے جانور لیے جائیں گے نہ اعلیٰ اور نہ بالکل ادنیٰ جیسا کہ صاف ارشادات نبوت میں موجود ہے۔ ایاکم و کرائم اموالہم (مسلم)
لغات : الشارف۔ بوڑھی اونٹنی۔ خزرات۔ عمدہ مال البکر۔ جوان سال اونٹ۔