hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2994

.

الطحاوي

2994
Al Tahawi
۲۹۹۴ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ‘ قَالَ : ثَنَا وَکِیْعٌ‘ عَنْ ہِشَامٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلَی تَقْلِیْدِ ھٰذَا الْخَبَرِ‘ وَقَالُوْا : ہٰکَذَا یَنْبَغِیْ لِلْمُصَدِّقِ أَنْ یَأْخُذَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا یَأْخُذُ فِی الصَّدَقَاتِ ذَاتَ عَیْبٍ‘ وَإِنَّمَا یَأْخُذُ عِدْلًا مِنَ الْمَالِ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٩٩٤: ہشام نے اپنے والد سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے جو اسی طرح ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ ایک گزروہ علماء نے اس روایت کو اختیار کیا اور کہا کہ صدقہ کی وصولی کرنے والے کو اسی طرح لینا چاہیے۔ مگر دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا زکوۃ میں عیب والا جانور نہ لیا جائے بلکہ درمیانی قسم کا جانور وصول کرے ان کی دلیل یہ روایت ذیل ہے۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٤١‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٥‘ ترمذی فی الزکوۃ باب ٤‘ ابن ماجہ فی الزکوۃ باب ١٠‘ نمبر ١٨٠٠‘ ابن ابی شیبہ۔
حاصل روایات؛ عامل ان اموال میں سے تمام اقسام کے جانور لے عیب دار ‘ درمیانے ‘ بوڑھے۔