۲۹۹۵ : بِمَا حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ‘ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ (أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیْقَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَمَّا اُسْتُخْلِفَ‘ وَجَّہَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلَی الْبَحْرَیْنِ‘ فَکَتَبَ لَہٗ ھٰذَا الْکِتَابَ .ھٰذِہٖ فَرِیْضَۃٌ یَعْنِی الصَّدَقَۃَ الَّتِیْ فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ الَّتِیْ أَمَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا رَسُوْلَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی وَجْہِہَا فَلِیُعْطِہَا‘ وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَہَا فَلاَ یُعْطِہٖ‘ فَذَکَرَ فَرَائِضَ الصَّدَقَۃِ وَقَالَ لَا یُؤْخَذُ فِی الصَّدَقَۃِ ہَرِمَۃٌ‘ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ‘ وَلَا تَیْسُ الْغَنَمِ) .
٢٩٩٥: ثمامہ بن عبداللہ نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے خلافت کے زمانہ میں انس بن مالک (رض) کر بحرین کی طرف روانہ کیا اور ان کو یہ خط تحریر کر کے دیا یہ صدقہ فرض ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مقرر کرنے کا حکم فرمایا ہے پس جو آدمی اس کو اسی انداز سے طلب کرے اس کو دے دو اور جو اس سے زیادہ کا مطالبہ کرے اس کو نہ دیا جائے پھر آپ نے اس میں صدقے کے فرائض ذکر کئے اور فرمایا صدقہ میں بوڑھی اونٹنی نہ لی جائے اور نہ عیب والا جانور لیا جائے اور نہ بکریوں کا جفتی کرنے والا نر لیا جائے۔