hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3038

.

الطحاوي

3038
Al Tahawi
۳۰۳۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَیْزٍ‘ قَالَ : ثَنَا سَلَامَۃُ‘ عَنْ عَقِیْلٍ‘ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ (أَسْمَائَ ‘ قَالَتْ : کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُدَّیْنِ .) فَھٰذِہٖ أَسْمَائُ تُخْبِرُ أَنَّہُمْ کَانُوْا یُؤَدُّوْنَ فِیْ عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ زَکَاۃَ الْفِطْرِ مُدَّیْنِ مِنْ قَمْحٍ .وَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنُوْا یَفْعَلُوْنَ ھٰذَا إِلَّا بِأَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لِأَنَّ ھٰذَا لَا یُؤْخَذُ - حِیْنَئِذٍ - إِلَّا مِنْ جِہَۃِ تَوْقِیْفِہٖ إِیَّاہُمْ عَلٰی مَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ ذٰلِکَ .فَتَصْحِیْحُ مَا رُوِیَ عَنْ أَسْمَائَ ‘ وَمَا رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ، أَنْ یُجْعَلَ مَا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَ عَلٰی مَا ذَکَرَتْ (یَعْنِیْ أَسْمَائَ) ہُوَ الْفَرْضَ‘ وَمَا کَانُوْا یُؤَدُّوْنَ عَلٰی مَا ذَکَرَہٗ أَبُوْ سَعِیْدٍ زِیَادَۃً عَلٰی ذٰلِکَ‘ ہُوَ تَطَوُّعٌ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی صِحَّۃِ مَا ذَکَرْنَا مِنْ ھٰذَا أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ ‘
٣٠٣٨: عروہ نے اسماء (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم صدقۃ الفطر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں دو مد نکالتے تھے۔ یہ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بتلا رہی ہیں کہ صحابہ کرام زمانہ نبوت میں صدقۃ الفطر گندم کے دو مد ادا کرتے تھے اور یہ بات ناممکن ہے کہ صحابہ کرام یہ عمل جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے بغیر کرتے ہوں ۔ کیونکہ اسوقت یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کر کے جو ان پر واجب ہوتا وہ کرتے تھے ۔ پس حضرت اسماء اور حضرت ابو سعید (رض) کی روایات کی تصحیح اسی طرح ممکن ہے کہ حضرت ابو سعید والی روایت میں مذکورہ مقدار کو نفل پر محمول کیا جائے اور حضرت اسماء (رض) والی روایت کو فرضی صدقہ پر محمول کریں اس کی دلیل یہ روایت ہے۔
حاصل روایت : یہ اسماء بنت ابی بکر (رض) بتلا رہی ہیں کہ وہ زمانہ نبوت میں صدقۃ الفطر گندم سے دو مد نکالا کرتے تھے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نکالتے ہوں کیونکہ صدقۃ الفطر توقیفی ہے اجتہادی نہیں۔
تطبیق :
حضرت اسماء (رض) اور ابو سعید خدری (رض) کی روایات میں موافقت کی صورت یہ ہے کہ اسماء (رض) نے جو ذکر کیا یہ مقدار فرض ہے اور ابو سعید (رض) کی روایت میں جس کا تذکرہ ہے وہ تبرعاً اور تطوعاً ہے۔
اس کی دلیل ابو بکرہ (رض) کی روایت ہے۔