۳۰۳۹ : قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ یُوْنُسَ‘ عَنِ الْحَسَنِ‘ أَنَّ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلٰی أَبِیْ سَعِیْدٍ : أَنِ ابْعَثْ إِلَیَّ بِزَکَاۃِ رَقِیْقِکَ .فَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ لِلرَّسُوْلِ : إِنَّ مَرْوَانَ لَا یَعْلَمُ‘ إِنَّمَا عَلَیْنَا أَنْ نُعْطِیَ لِکُلِّ رَأْسٍ‘ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ‘ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ‘ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ .فَھٰذَا أَبُوْ سَعِیْدٍ‘ قَدْ أَخْبَرَ فِیْ ھٰذَا‘ بِمَا عَلَیْہِ فِیْ زَکَاۃِ الْفِطْرِ‘ عَنْ عَبِیْدِہٖ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا‘ وَأَنَّ مَا رُوِیَ عَنْہُ مِمَّا زَادَ عَلٰی ذٰلِکَ‘ کَانَ اخْتِیَارًا مِنْہُ‘ وَلَمْ یَکُنْ فَرْضًا .وَقَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا فَرَضَہٗ فِیْ زَکَاۃِ الْفِطْرِ‘ مُوَافَقَۃً لِھٰذَا أَیْضًا .
٣٠٣٩: یونس نے حسن سے نقل کیا کہ مروان نے ابو سعید (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے غلام کی زکوۃ فطر بھیج دو تو ابو سعید (رض) نے قاصد کو کہا مروان کو علم نہیں ہمارے ذمہ لازم ہے کہ ہم ہر شخص کی طرف سے صدقۃ الفطر گندم کا ایک صاع یا نصف صاع گندم ادا کریں۔ یہ حضرت ابو سعید (رض) ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ان پر غلام کا صدقہ فطر کتنی مقدار میں ہے۔ یہ بھی تو اس بات پر دلیل ہے۔ جو کچھ ان سے زیادہ دینے کے بارے میں مروی ہے تو وہ ان کی اختیار بات تھی ان پر فرض نہ تھا ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے موافق جناب رسول اللہ سے روایات بھی آتی ہیں ذیل میں ملاحظہ ہوں۔
اس روایت میں تو ابو سعید (رض) نے زکوۃ فطر گندم سے نصف صاع بتلایا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ فریق اوّل کی نقل کردہ روایات میں فرض سے زائد بطور تطوع اور تبرع دیا گیا ہے وہ فرض مقدار نہیں ہے اس کی موافقت میں روایات وارد ہیں۔