hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3093

.

الطحاوي

3093
Al Tahawi
۳۰۹۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ‘ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ‘ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ (وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمَ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْخُذُ خَیْطًا أَبْیَضَ وَخَیْطًا أَسْوَدَ‘ فَیَضَعُہُمَا تَحْتَ وِسَادَۃٍ‘ فَیَنْظُرُ مَتٰی یَسْتَبِیْنُہُمَا فَیَتْرُکُ الطَّعَامَ .قَالَ : فَبَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذٰلِکَ‘ وَنَزَلَتْ (مِنَ الْفَجْرِ) .فَلَمَّا کَانَ حُکْمُ ھٰذِہِ الْآیَۃِ قَدْ کَانَ أَشْکَلَ عَلٰی أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ مِنْ ذٰلِکَ مَا بَیَّنَ‘ وَحَتّٰی أَنْزَلَ (مِنَ الْفَجْرِ) بَعْدَمَا قَدْ کَانَ أَنْزَلَ (حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) فَکَانَ الْحُکْمُ أَنْ یَأْکُلُوْا وَیَشْرَبُوْا‘ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ ذٰلِکَ لَہُمْ‘ حَتّٰی نَسَخَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْلِہٖ (مِنَ الْفَجْرِ) عَلٰی مَا ذَکَرْنَا‘ مَا قَدْ بَیَّنَہٗ سَہْلٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ .وَاحْتُمِلَ أَنْ یَّکُوْنَ مَا رَوٰی حُذَیْفَۃُ مِنْ ذٰلِکَ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَبْلَ نُزُوْلِ تِلْکَ الْآیَۃِ‘ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تِلْکَ الْآیَۃَ‘ أَحْکَمَ ذٰلِکَ‘ وَرَدَّ الْحُکْمَ إِلٰی مَا بَیَّنَ فِیْہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ۔
: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب آیت : وکلوا واشربوا حتٰی یتبین لکم۔۔۔ (البقرہ : ١٨٧) نازل ہوئی تو لوگ سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر تکئے کے نیچے رکھتے اور ان کو دیکھتے رہتے جب ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے تو اس وقت کھانا چھوڑتے۔ سہل کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتار دیئے۔ جب اس آیت کا حکم صحابہ پر قابل اشکال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجرِ سے اس کی وضاحت کردی کہ صبح کے اچھی طرح سپید ہونے تک کھاپی سکتے ہو اور پہلے حکم کو منسوخ کردیا جیسا کہ ہم حضرت سہل (رض) کی روایت کے ضمن میں ذکر کر آئے ہیں اور دوسرا احتمال وہ بھی ہے جو پیچھے ہم نے ذکر کیا کہ حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کا حکم نزول آیت سے پہلے کا ہے جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت اتار دی تو اس حکم کو اصل کی طرف لوٹا کر محکم کردیا جیسا کہ ذیل کی روایت واضح کر رہی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ١٦‘ مسلم دی الصیام نمبر ٣٤۔
جب اس آیت نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اشکال پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتارے اس کے بعد کہ حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض (البقرہ۔ ١٨٧) پہلے کھانے پینے کا حکم تھا یہاں تک کہ ” من الفجر “ سے اس کو منسوخ کردیا اور روایت نمبر ٣٠٩٣ میں یہ مذکورہوا۔
٣٠٩٣: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب آیت : وکلوا واشربوا حتٰی یتبین لکم۔۔۔ (البقرہ : ١٨٧) نازل ہوئی تو لوگ سیاہ اور سفید دھاگہ لے کر تکئے کے نیچے رکھتے اور ان کو دیکھتے رہتے جب ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے تو اس وقت کھانا چھوڑتے۔ سہل کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتار دیئے۔ جب اس آیت کا حکم صحابہ پر قابل اشکال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْفَجرِ سے اس کی وضاحت کردی کہ صبح کے اچھی طرح سپید ہونے تک کھاپی سکتے ہو اور پہلے حکم کو منسوخ کردیا جیسا کہ ہم حضرت سہل (رض) کی روایت کے ضمن میں ذکر کر آئے ہیں اور دوسرا احتمال وہ بھی ہے جو پیچھے ہم نے ذکر کیا کہ حضرت حذیفہ (رض) والی روایت کا حکم نزول آیت سے پہلے کا ہے جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت اتار دی تو اس حکم کو اصل کی طرف لوٹا کر محکم کردیا جیسا کہ ذیل کی روایت واضح کر رہی ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ١٦‘ مسلم دی الصیام نمبر ٣٤۔
جب اس آیت نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اشکال پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی اور ” من الفجر “ کے الفاظ اتارے اس کے بعد کہ حتٰی یتبین لکم الخیط الابیض (البقرہ۔ ١٨٧) پہلے کھانے پینے کا حکم تھا یہاں تک کہ ” من الفجر “ سے اس کو منسوخ کردیا اور روایت نمبر ٣٠٩٣ میں یہ مذکورہوا۔
نمبر 2: دوسرا احتمال یہ ہے کہ حذیفہ (رض) نے جو بات نقل کی وہ نزول آیت سے پہلے کی ہو جب آیت اتار کر وضاحت کردی اور اس حکم کو محکم کردیا۔
اور اس سلسلہ میں اگلی روایت مؤید ہے۔