hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3094

.

الطحاوي

3094
Al Tahawi
۳۰۹۴ : مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ وَالْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ‘ قَالَا : ثَنَا مُلَازِمُ ابْنُ عَمْرٍو‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَدْرٍ السُّحَیْمِیُّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ جَدِّیْ قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا یَہِیْدَنَّکُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ‘ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَعْتَرِضَ لَکُمُ الْأَحْمَرُ وَأَشَارَ بِیَدِہٖ وَأَعْرَضَہَا) .فَلاَ یَجِبُ تَرْکُ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی نَصًّا‘ وَأَحَادِیْثَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَاتِرَۃً قَدْ قَبِلَتْہَا الْأُمَّۃُ‘ وَعَمِلَتْ بِہَا مِنْ لَدُنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَوْمِ ۔ إِلٰی حَدِیْثٍ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ مَنْسُوْخًا بِمَا ذَکَرْنَاہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٠٩٤: قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ جناب نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم کھاتے پیتے رہو تمہیں اوپر کو چڑھنے والی روشنی نہ روکے۔ اس وقت تک کھاؤ یہاں تک کہ سامنے چوڑائی میں سرخی ظاہر ہو اور دست مبارک سے اس کی چوڑائی کی طرف اشارہ کیا۔ تو اس سے قرآن مجید کی کسی نص یا حدیث متواتر میں سے کسی کا ترک بھی لازم نہیں آتا جن احادیث کو امت نے آج تک قبول کر کے اس پر عمل قائم کیا ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ روایت اس آیت سے منسوخ ہو جیسا کہ ہم اسی باب میں ذکر کر آئے۔ یہ امام ابوحنیفہ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
اس روایت اور دیگر روایات اور آیت سے صبح صادق کے بعد کھانے کی اجازت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے روایات حذیفہ (رض) کے بالمقابل نہ تو کسی آیت کا نسخ لازم آتا ہے بلکہ امت کا متواتر اجماعی عمل روایت حذیفہ کے نسخ کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لیے اس روایت پر عمل ہرگز درست نہ ہوگا بلکہ نصوص متواترہ امت کے اجماعی عمل اور اشارۃ النص پر ہی عمل کیا جائے گا۔
یہ امام ابوحنیفہ (رح) و ابو یوسف (رح) محمد (رح) کا قول ہے۔
اس باب میں پہلی مرتبہ تذکرہ مذاہب کے بغیر روایت کا ذکر کر کے اس کا نسخ روایات و اجماع امت سے ثابت کیا ہے باقی سنداً بھی یہ روایت درجہ رابع کی کتب سے متعلق ہے۔ واللہ اعلم۔