hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3095

.

الطحاوي

3095
Al Tahawi
۳۰۹۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ وَیَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ سَالِمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (مَنْ لَمْ یُبَیِّتِ الصِّیَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ‘ فَلاَ صِیَامَ لَہٗ) .
٣٠٩٥: سالم نے اپنے والد سے انھوں نے حفصہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے کہ جس نے فجر سے پہلے رات کو نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔
تخریج : نسائی فی الصیام باب ٦٨‘ دارمی فی الصوم باب ١٠۔
قضاء رمضان ‘ نذر غیر معین اور کفارہ کے روزوں کی نیت سب کے ہاں بالاتفاق رات سے کرنا شرط ہے ورنہ روزہ ادا نہ ہوگا البتہ نفلی روزے کے متعلق ! امام مالک رات سے نیت کو ضروری قرار دیتے ہیں اور " باقی تمام ائمہ کے نزدیک رات کو نیت ضروری نہیں ماقبل الزوال تک نیت کی جاسکتی ہے اور ! رمضان المبارک اور نذر معین کے روزے میں ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ رات سے نیت ضروری قرار دیتے ہیں ورنہ روزہ درست نہ ہوگا " مگر احناف ان میں بھی نوافل کی طرح زوال سے پہلے تک نیت کو درست مانتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل :
رمضان المبارک کے وقتی روزے ‘ نذر معین میں رات سے نیت لازم ہے نفل کی طرح زوال آفتاب تک نیت کی رخصت ہرگز نہیں ان کا حکم نوافل سے مختلف ہے دلیل یہ روایت ہے۔