hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3125

.

الطحاوي

3125
Al Tahawi
۳۱۲۴ : حَدَّثَنِیْ فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ (أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ہَلَکْتُ .فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیْلَکَ‘ مَا لَکَ قَالَ .وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِیْ‘ وَأَنَا صَائِمٌ فِیْ رَمَضَانَ .فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہَلْ تَجِدُ رَقَبَۃً تُعْتِقُہَا ؟ فَقَالَ : لَا .فَقَالَ : فَہَلْ تَسْتَطِیْعُ أَنْ تَصُوْمَ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ؟ قَالَ : لَا وَاللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .قَالَ فَہَلْ تَجِدُ طَعَامَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا ؟ قَالَ : لَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. فَبَیْنَمَا نَحْنُ عَلٰی ذٰلِکَ‘ أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِیْہِ تَمْرٌ‘ وَالْعَرْقُ : الْمِکْتَلُ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْنَ السَّائِلُ آنِفًا ؟ خُذْ ھٰذَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعَلٰی أَہْلٍ أَفْقَرَ مِنِّیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہٖ؟ فَوَاللّٰہِ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا یُرِیْدُ الْحَرَّتَیْنِ أَفْقَرُ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی. فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ أَنْیَابُہٗ ثُمَّ قَالَ أَطْعِمْہُ أَہْلَکَ) .قَالَ : فَصَارَتِ الْکَفَّارَۃُ إِلٰی عِتْقِ رَقَبَۃٍ‘ أَوْ صِیَامِ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ‘ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا .
٣١٢٤: عبدالرحمن بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود تھے ایک آدمی آ کر کہنے لگایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تباہ ہوگیا آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے تم کیا کہتے ہو اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کرلیا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا کیا تم گردن آزاد کرنے کے لیے پاتے ہو اس نے کہا نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت پاتے ہو اس نے کہا نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ آپ نے فرمایا کیا تم ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی طاقت پاتے ہو اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسا نہیں کرسکتا اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے ہم اسی حالت میں تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا آپ نے دریافت فرمایا ابھی سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ یہ کھجور لے کر اس کو صدقہ کر دو ۔
وہ آدمی کہنے لگا کیا میں ان لوگوں پر تقسیم کروں جو مجھ سے زیادہ فقیرومحتاج ہوں ؟ اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں سنگلاخوں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔
راوی کہتے ہیں کہ کفارہ گردن آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہوا۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٣١۔