hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3155

.

الطحاوي

3155
Al Tahawi
۳۱۵۴ : حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ‘ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ‘ عَنْ (قَزْعَۃَ‘ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیْدٍ عَنْ صِیَامِ رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ .فَقَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ‘ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُوْمُ وَنَصُوْمُ‘ حَتّٰی بَلَغَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَنَازِلِ فَقَالَ إِنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ‘ وَالْفِطْرُ أَقْوٰی لَکُمْ. فَأَصْبَحْنَا‘ مِنَّا الصَّائِمُ‘ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ‘ ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا‘ فَقَالَ إِنَّکُمْ تُصَبِّحُوْنَ عَدُوَّکُمْ‘ وَالْفِطْرُ أَقْوٰی لَکُمْ‘ فَأَفْطِرُوْا فَکَانَتْ عَزِیْمَۃً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ثُمَّ لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَصُوْمُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذٰلِکَ وَبَعْدَ ذٰلِکَ) .
٣١٥٤: قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید (رض) سے رمضان کے روزہ سے متعلق دریافت کیا کہ وہ سفر میں درست ہے یا نہیں تو وہ کہنے لگے ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فتح والے سال رمضان المبارک میں ہی مکہ کی طرف نکلے تھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی روزہ رکھتے رہے اور ہم بھی یہاں تک کہ ایک منزل پر پہنچے تو آپ نے فرمایا اب تم اپنے دشمن سے بالکل قریب پہنچ گئے ہو اس وقت افطار تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے ہم نے اس حال میں صبح کی کہ بعض ہم میں سے روزہ رکھنے والے اور بعض افطار کرنے والے تھے پھر ہم چلتے رہے اور ایک پڑاؤ پر آپ نے فرمایا صبح تمہارا دشمن سے سامنا ہوگا اس لیے افطار زیادہ قوت کا باعث ہے پس تم افطار کر دو یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے حتمی بات تھی۔
پھر اس کے بعد میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے کو روزہ رکھتے اور افطار کرتے دونوں حالتوں میں پایا۔
تخریج : مسلم فی الصیام ١٠٢‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٤٣۔