۳۱۸۸ : بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ أُمَیَّۃَ‘ عَنْ نَافِعٍ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ‘ قَالَ : (لَمْ یَصُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُوْ بَکْرٍ‘ وَلَا عُمَرُ‘ وَلَا عُثْمَانُ وَلَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ یَوْمَ عَرَفَۃَ) .قِیْلَ لَہُمْ ھٰذَا أَیْضًا - عِنْدَنَا - عَلَی الصِّیَامِ یَوْمَ عَرَفَۃَ بِالْمَوْقِفِ‘ وَقَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ .
٣١٨٨: نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر اور عثمان و علی ] میں سے کسی نے بھی عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا۔ ان کے جواب میں ہم کہیں گے اس روایت سے مراد ہمارے ہاں میدان عرفات میں روزہ کی ممانعت ہے اور اس کا ثبوت ابن عمر (رض) کی اس روایت ذیل سے واضح ہوتی ہے۔
ازالہ :
ہمارے ہاں اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ مؤقف عرفات میں ان میں سے کسی نے بھی روزہ نہیں رکھا اور دوسرے مقام کے روزے کی اس سے نفی ثابت نہیں ہوتی خود عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ معنی اس روایت کے علاوہ میں ذکر کیا ہے۔
روایت ابن عمر (رض) ملاحظہ ہو۔