۳۱۸۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ وَأَبُوْ دَاوٗدَ‘ قَالَا : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ رَجُلٍ (أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِالْمَوْقِفِ‘ فَقَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَصُمْہُ وَمَعَ أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَلَمْ یَصُمْہُ‘ وَمَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ فَلَمْ یَصُمْہُ‘ وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَلَمْ یَصُمْہُ‘ وَأَنَا لَا أَصُوْمُہٗ، وَلَا آمُرُکَ وَلَا أَنْہَاکَ‘ فَإِنْ شِئْتُ فَلاَ تَصُمْہٗ) .فَبَیَّنَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ مَا رَوَی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ہُوَ عَلَی الصَّوْمِ فِی الْمَوْقِفِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْأَمْرِ بِصَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ۔
٣١٨٩: عبداللہ بن ابی نجیح نے اپنے والد سے انھوں نے ایک آدمی سے بیان کیا کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ عرفہ کے دن میدان عرفات میں روزے کا کیا حکم تو انھوں نے جواب دیا ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میدان عرفات کی طرف نکلے آپ روزے سے نہ تھے اور ابوبکر کے ساتھ میدان عرفات کی طرف نکلے انھوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور عمر (رض) کے ساتھ نکلے انھوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور عثمان (رض) کے ساتھ نکلے اور انھوں نے بھی روزہ نہ رکھا اور میں بھی روزہ نہیں رکھتا اور تجھے روزہ کا حکم نہیں کرتا اور نہ اس سے روکتا ہوں اگر تم مناسب سمجھو تو روزہ نہ رکھو۔ تو اس روایت نے واضح کردیا کہ سابقہ روایت میں نافع نے جو ابن عمر (رض) سے عرفہ کے روز روزہ کی نفی کی ہے اس کا تعلق مؤقف عرفات سے ہے۔ مزید ثبوت میں روایت ذیل ملاحظہ کریں۔
تخریج : ترمذی فی الصوم باب ٤٧۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس روزے کی عرفہ کے دن ممانعت ہے وہ میدان عرفات میں روزہ رکھنا ہے جو کہ کسی نے نہیں رکھا۔