۳۱۹۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ‘ قَالَ : سَمِعْتُ غَیْلَانَ بْنَ جَرِیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ‘ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنِّیْ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ فِیْ صِیَامِ یَوْمِ عَرَفَۃَ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِیْ قَبْلَہٗ، وَالسَّنَۃَ الَّتِیْ بَعْدَہٗ)
٣١٩٢: عبداللہ بن معبد زمانی نے ابو قتادہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ یوم عرفہ کے روزے پر ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف کر دے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشوراء کا روزہ واجب ہے اور صبح کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کو روزے کا حکم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی دن روزے کا مقرر ہو اور رات کو نیت نہ کی جاسکے تو صبح کے بعد قبل الزوال وہ نیت کرسکتا ہے جب کہ اہل علم نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے۔ یوں عاشوراء کے روزے کے سلسلہ میں اس سے زائد روایات بھی وارد ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی الصیام باب ٤٠۔