۳۱۹۳ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُعْتَمِرُ‘ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَی الْفَضِیْلِ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ حَرِیْزٍ‘ أَنَّہٗ سَمِعَ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُوْلُ : (سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ‘ قَالَ : کُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعْدِلُہٗ بِصَوْمِ سَنَۃٍ) .فَثَبَتَ بِھٰذَا الْأَثَرِ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّرْغِیْبُ فِیْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا کُرِہَ مِنْ صَوْمِہٖ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ‘ ہُوَ لِلْعَارِضِ الَّذِیْ ذَکَرْنَا مِنَ الْوُقُوْفِ بِعَرَفَۃَ‘ لِشِدَّۃِ تَعَبِہِمْ‘ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ‘ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی.
٣١٩٣: ابو حریز بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) کو کہتے سنا کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ یوم عرفہ کا روزہ کیا مقام رکھتا ہے تو کہنے لگے ہم اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سال کے روزے کے برابر سمجھتے تھے۔ جناب رسول اللہ کے متعلق اس اثر سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب ثابت ہوئی ۔ پس اس سے ثبوت مل گیا کہ پہلی روایات کے مطابق اس دن روزہ رکھنے کی کراہت اس وجہ سے ہے جو ہم نے بیان کی ہے یعنی وقوف عرفات کیونکہ اس میں کافی مشقت ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔
ان روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عرفہ کے دن کا روزہ عرفات کے علاوہ دوسرے مقام پر بڑا درجہ رکھتا ہے۔ جیسا کہ ان دو ترغیبی روایات سے ثابت ہوتا ہے اور جن روایات سے ممانعت معلوم ہوتی ہے وہ کسی عارضہ کی وجہ سے ہے مثلاً وقوف عرفات وغیرہ میں کیونکہ وہاں مشقت شدید ہوتی ہے۔
ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔