hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3195

.

الطحاوي

3195
Al Tahawi
۳۱۹۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ‘ عَنْ (حَبِیْبِ بْنِ ہِنْدِ بْنِ أَسْمَائَ ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی قَوْمِیْ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ قُلْ لَہُمْ فَلْیَصُوْمُوْا یَوْمَ عَاشُوْرَائَ فَمَنْ وَجَدْتَ مِنْہُمْ قَدْ أَکَلَ مِنْ صَدْرِ یَوْمِہٖ، فَلْیَصُمْ آخِرَہٗ) .
٣١٩٤: حبیب بن ہند بن اسماء نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے میری قوم اسلم کی طرف روانہ فرمایا تو فرمایا ان کو کہو کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھیں جس کو تم اس حالت میں پاؤ کہ وہ شروع دن میں کھاچکا ہے تو وہ دن کے آخری حصہ تک کھانے سے رکا رہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٦٩۔
دس محرم الحرام کو عاشورہ کہا جاتا ہے اس کی وجہ تسمیہ خواہ دس انبیاء (علیہم السلام) پر اکرام خداوندی کا نزول ہو یا اور کچھ۔ اس میں بڑے بڑے واقعات پیش آئے جیسے غرق فرعون وغیرہ بعض فقہاء نے اس دن کھانے کی گھر میں وسعت کو مستحب کہا ہے نزول رمضان سے پہلے یہ روزہ فرض تھا اب یہ استحباب کے درجہ میں ہے نزول سے قبل کی حیثیت واضح کرنے کے لیے یہ باب لایا گیا ہے امام ابوحنیفہ و احمد رحمہم اللہ کے ہاں اس کا روزہ رمضان سے پہلے فرض تھا اب مستحب ہے۔
نمبر 2: رمضان سے پہلے بھی مسنون تھا اب استحباب کے درجہ میں ہے۔
نمبر 3: بالقصد تنہا عاشورہ کا روزہ مکروہ ہے یہ ابن عمر (رض) کا قول ہے۔
مؤقف فریق اوّل و دلائل : نزول رمضان سے قبل اس کا روزہ فرض تھا اب فرضیت منسوخ ہو کر استحباب رہ گیا دلائل یہ روایات ہیں۔