۳۱۹۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ یَزِیْدَ‘ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ ؛ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ؛ قَالَ : سَأَلْتُہَا عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ .فَقَالَتْ : (بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْأَمْصَارِ مَنْ کَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْیَقُمْ عَلٰی صَوْمِہٖ، وَمَنْ کَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْیُتِمَّ آخِرَ یَوْمِہٖ) فَلَمْ نَزَلْ نَصُوْمُہٗ بَعْدُ وَنُصَوِّمُہٗ صِبْیَانَنَا وَہُمْ صِغَارٌ وَنَتَّخِذُ لَہُمْ اللُّعْبَۃَ مِنَ الْعِہْنِ ؛ فَإِذَا سَأَلُوْنَا الطَّعَامَ أَعْطَیْنَاہُمْ اللُّعْبَۃَ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَمْنَعُوْنَ صِبْیَانَہُمْ الطَّعَامَ‘ وَیُصَوِّمُوْنَہُمْ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ .وَھٰذَا - عِنْدَنَا - غَیْرُ جَائِزٍ‘ لِأَنَّ الصِّبْیَانَ غَیْرُ مُتَعَبَّدِیْنَ بِصِیَامٍ وَلَا بِصَلَاۃٍ‘ وَلَا بِغَیْرِ ذٰلِکَ .وَکَیْفَ یَکُوْنُوْنَ مُتَعَبَّدِیْنَ بِشَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ‘ وَقَدْ رَفَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْہُمَ الْقَلَمَ ؟‘ ‘ .
٣١٩٧: خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ (رض) سے یوم عاشورہ کے متعلق دریافت کیا تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہروں میں آدمی روانہ کر کے حکم فرمایا۔ جس نے صبح روزہ کی حالت میں کی ہے وہ اپنے روزے پر قائم رہے اور جس نے صبح کے وقت کچھ کھا پی لیا ہے وہ اپنے دن کا اجر پورا کرے (یعنی دن کو کھانے سے گریز کرے) چنانچہ ہم یہ روزہ رکھتے رہے اور ہمارے بچے بھی رکھتے رہے حالانکہ وہ چھوٹے تھے اور ہم ان کو بہلانے کے لیے کھلونے دیتے جو کہ اون سے بہلاوے کے لیے بنائے جاتے تاکہ وہ کھانے سے رکے رہیں (یہ بچوں میں روزہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے) ۔ پس اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ وہ بچوں سے کھانے کو روک کر ان سے عاشوراء کا روزہ رکھوائے ہمارے ہاں یہ طریق درست نہیں ۔ کیونکہ بچے تو نماز روے کے مکلف نہیں وہ ان عبادات کے کس طرح ذمہ دار ہوں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مرفوع القلم قرارد یا۔
تخریج : مسلم فی الصیام روایت ٣٦۔
اس روایت میں بچوں کے روزے رکھنے کا ذکر ہے بچوں پر غیر مکلف ہونے کی وجہ سے روزہ فرض نہیں ہے البتہ ترغیب اور روزے کے شوق کو تیز کرنے کے لیے ایسا کرنا درست ہے جیسا کہ دس سال کے بچوں کو مار کر نماز پڑھانے کا حکم ہے البتہ اس سے فرضیت روزہ پر استدلال چنداں درست نہیں کیونکہ بچے تو مرفوع القلم ہیں جیسا اس روایت میں موجود ہے۔