۳۲۰۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَامِرٍ‘ عَنْ شُعْبَۃَ‘ عَنِ الْحَکَمِ‘ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ نَسْخُ وُجُوْبِ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ ‘ وَدَلِیْلُ أَنَّ صَوْمَہٗ قَدْ رُدَّ إِلَی التَّطَوُّعِ‘ بَعْد أَنْ کَانَ فَرْضًا .وَقَدْ رُوِیَتْ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آثَارٌ أُخَرُ‘ فِیْہَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ صَوْمَہٗ، کَانَ اخْتِیَارًا‘ لَا فَرْضًا۔
٣٢٠٧: حکم نے قاسم بن مخیمرہ سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ ان روایات میں عاشوراء کے دن روزہ کا منسوخ ہو نامذکور ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس دن کے روزے کو نفل قراردیا گیا جب کہ یہ پہلے فرض تھا ۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے علاوہ روایات بھی وارد ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اس روزہ کے رکھنے اور نہ رکھنے کا اختیار تھا فرض نہ تھا ۔ ان میں سے چند ذیل میں ہیں۔
ان روایات سے ثابت ہوا کہ رمضان المبارک کی فرضیت سے پہلے یہ روزہ فرض تھا پھر فرضیت منسوخ ہو کر دوبارہ تطوع اور نفل کی طرف لوٹ آیا۔
مؤقف فریق ثانی :
یہ روزے فرض نہ تھے نہ ہوئے کہ ان کے منسوخ ہونے کی نوبت آئی بس جو حیثیت پہلے تھی وہی باقی رہی شروع میں بھی رکھنے نہ رکھنے کا اختیار تھا تو آخر میں بھی یہی رہا۔
جیسا کہ ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔