۳۲۰۸ : .فَمِنْہَا مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ وَعَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَا : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ‘ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ قَالَ (لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ‘ وَجَدَ الْیَہُوْدَ یَصُوْمُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ ‘ فَسَأَلَہُمْ ؛ فَقَالُوْا : ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِیْ أَظْہَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلٰی فِرْعَوْنَ .فَقَالَ أَنْتُمْ أَوْلٰی بِمُوْسٰی مِنْہُمْ‘ فَصُوْمُوْہُ .) فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ إِنَّمَا صَامَہٗ شُکْرًا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ إظْہَارِ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ‘ فَذٰلِکَ عَلَی الِاخْتِیَارِ‘ لَا عَلَی الْفَرْضِ .
٣٢٠٨: سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ نے یہود کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے پایا آپ نے ان سے دریافت کیا (کہ یہ روزہ کیوں کر رکھتے ہو) تو انھوں نے کہا اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون پر غلبہ عنایت فرمایا تو آپ نے فرمایا تم ان کی نسبت موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ قریب ہو۔ پس تم روزہ رکھو۔ اس روایت نے واضح کردیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کا روزہ اس شکریہ میں رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون پر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو غلبہ عنایت فرمایا۔ پس اس روزے میں اختیار ہوا نہ کہ فرضیت۔ ذیل کی روایات ملاحظہ ہوں۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٦٩‘ مسلم فی الصیام ١٢٧۔
اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہود شکریہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس طرح کے روزے تو اختیاری ہوتے ہیں نہ کہ فرض۔
ابن عباس (رض) کی روایت ملاحظہ ہو۔