hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3212

.

الطحاوي

3212
Al Tahawi
۳۲۱۱ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ (الْحَکَمَ بْنَ الْأَعْرَجِ‘ یَقُوْلُ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبِرْنِیْ عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ .قَالَ عَنْ أَیِّ بَالِہِ تَسْأَلُ ؟ قُلْتُ : أَسْأَلُ عَنْ صِیَامِہٖ، أَیَّ یَوْمٍ أَصُوْمُ ؟ قَالَ اِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَۃٍ‘ فَأَصْبِحْ صَائِمًا .قُلْتُ : کَذٰلِکَ کَانَ یَصُوْمُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ نَعَمْ .) فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ کَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ .وَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی صَوْمِہٖ، ذٰلِکَ أَنَّہٗ کَانَ اخْتِیَارًا لَا فَرْضًا‘ مَا قَدْ رَوَاہُ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ إخْبَارِہِ بِالْعِلَّۃِ الَّتِی مِنْ أَجْلِہَا صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمئِذٍ .
٣٢١١: حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ آپ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق بتلائیں تو وہ کہنے لگے کیا تم اس کے روزے سے متعلق پوچھتے ہو کہ میں کسی دن روزہ رکھوں تو فرمانے لگے جب تم نویں کی صبح کرو تو روزہ رکھو۔ میں نے پوچھا ؟ کیا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح روزہ رکھتے تھے اس پر انھوں نے کہا جی ہاں ! تو یہ حضرت ابن عباس (رض) ہیں جن کی روایت گزری کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا روزہ نفلی تھا نہ کہ فرض۔ حضرت ابو سعید الخدری (رض) نے ان روایات میں جو انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کی ہیں۔ ان میں اس علت کو واضح کیا جس کی بناء پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن روزہ رکھا ۔ روایت ملاحظہ کریں۔
تخریج : مسلم فی الصیام نمبر ١٣٢‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٦٤۔
یہ ابن عباس (رض) بتلا رہے ہیں کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے تھے یہ بھی دلیل ہے کہ روزہ اختیاری تھا فرض نہ تھا ابن عباس (رض) کی سعید بن جبیر والی روایت میں مذکور علت بھی اس بات کی مؤید نظر آتی ہے۔