hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3222

.

الطحاوي

3222
Al Tahawi
۳۲۲۱ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُوْنَ‘ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ غَیْلَانَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ أَمَرَہُمْ بِصَوْمِہٖ احْتِسَابًا لِمَا ذَکَرَ فِیْہِ مِنَ الْکَفَّارَۃِ‘ وَلَیْسَ ھٰذَا بِمُخَالِفٍ - عِنْدَنَا - لِحَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ‘ لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ کَانَ یَصُوْمُہُ شُکْرًا لِلّٰہِ‘ لَمَّا أَظْہَرَ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ‘ فَیَشْکُرُ اللّٰہَ بِہٖ، مَا شَکَرَہٗ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ‘ فَیُکَفِّرُ بِہٖ عَنِ السَّنَۃِ الْمَاضِیَۃِ .
٣٢٢١: مہدی بن میمون اور حماد بن زید نے غیلان سے نقل کیا پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت ذکر کی ہے۔
اس روایت میں احتساب کا تذکرہ ہے مگر یہ حدیث ابن عباس کے خلاف نہیں کیونکہ حصول ثواب کی غرض تو شکریہ کے روزے سے بھی پوری ہوتی ہے اور اس شکریہ کی وجہ سے سال گزشتہ کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہوں کیونکہ لإِن شکرتم لازیدنکم (الایہ) کا وعدہ بھی تو موجود ہے پس اس سے بھی وجوب ثابت نہ ہوا۔