۳۲۲۲ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَا : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ أَنَّہٗ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ عَامَ حَجَّ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ : یَا أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ‘ أَیْنَ عُلَمَاؤُکُمْ‘ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ " ھٰذَا یَوْمُ عَاشُوْرَائَ ‘ وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ صِیَامُہٗ، وَأَنَا صَائِمٌ‘ فَمَنْ شَائَ فَلْیَصُمْ‘ وَمَنْ شَائَ فَلْیُفْطِرْ " .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ (وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ صِیَامُہٗ) أَیْ صِیَامُ ذٰلِکَ الْیَوْمِ فِیْ ذٰلِکَ الْعَامِ .وَلَیْسَ فِیْ ھٰذَا نَفْیُ أَنْ یَّکُوْنَ قَدْ کَانَ کُتِبَ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ فِیْمَا تَقَدَّمَ ذٰلِکَ الْعَامَ مِنَ الْأَعْوَامِ‘ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذٰلِکَ عَلٰی مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْأَحَادِیْثِ الْأُوَلِ .فَقَدْ ثَبَتَ نَسْخُ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ الَّذِیْ کَانَ فَرْضًا‘ وَأَمَرَ بِذٰلِکَ عَلَی الِاخْتِیَارِ‘ وَأَخْبَرَ بِمَا فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الثَّوَابِ فَصَوْمُہٗ حَسَنٌ‘ وَہُوَ الْیَوْمُ الْعَاشِرُ‘ قَدْ قَالَ ذٰلِکَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ حَدِیْثِ الْحَکَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ‘ وَذَکَرَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٢٢٢: حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حج والے سال حضرت معاویہ (رض) سے سنا جبکہ وہ منبر پر خطبہ میں کہہ رہے تھے اے اہل مدینہ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دن کے متعلق کہتے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ افطار کرے۔ ممکن ہے کہ انھوں نے اپنے قول ولم یُکتَب علیکم صیامہ “ سے اس دن کا روزہ اس سال کا مراد لیا ہو۔ اس میں اس بات کی نفی نہیں کہ یہ پہلے گزشتہ سالوں میں فرض تھا پھر یہ منسوخ کیا گیا ۔ جیسا کہ پہلی مذکورہ روایات میں گزرا۔ پس یوم عاشوراء کے دن روزہ منسوخ ہوا ۔ اس کے بعد کہ یہ پہلے فرض تھا اور اس کا حکم اختیاری کردیا گیا اور اس کے ثواب کی اطلاع دی ‘ اس کا روزہ رکھنا بہت بہتر ہے اور وہ دسویں تاریخ کا روزہ ہے۔ حکم بن اعرج والی روایت میں یہ ابن عباس (رض) سے نقل کیا گیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی روایت کیا گیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزید روایات ذیل میں ہیں۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٦٩‘ مسلم فی الصیام ١٢٦۔
اس روایت بالا میں لم یکتب علیکم صیامہ کے الفاظ سے مراد اس دن کا روزہ اس سال فرض نہیں کیا گیا اس میں فرض ہو کر منسوخ ہونے کی نفی نہیں بلکہ حضرت معاویہ اس کی موجودہ حالت بتلا رہے ہیں کہ اب اس کے روزے کی حیثیت فرضیت والی نہیں ہے باقی فرض ہو کر نسخ کی روایت گزشتہ سطور میں ذکر کی جا چکی ہیں اب روزہ رکھ لیا جائے تو ثواب ہے نہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ابن عباس (رض) کی روایت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دسویں کا دن ہی ہے اس سے نویں تاریخ مراد لینا درست نہیں ہے۔
روایت ملاحظہ ہو۔