۳۲۲۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ وَعَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَا : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ‘ فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیْثِ سُلَیْمَانَ .فَقَوْلُہٗ (لَأَصُوْمَنَّ عَاشُوْرَائَ ‘ یَوْمَ التَّاسِعِ) إخْبَارٌ مِنْہُ‘ عَلٰی أَنَّہٗ یَکُوْنُ ذٰلِکَ الْیَوْمُ‘ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ ‘ وَقَوْلُہٗ (لَأَصُوْمَنَّ یَوْمَ التَّاسِعِ) یَحْتَمِلُ (لَأَصُوْمَنَّ یَوْمَ التَّاسِعِ مَعَ الْعَاشِرِ) أَیْ لِئَلَّا أَقْصِدَ بِصَوْمِی إِلٰی یَوْمِ عَاشُوْرَائَ بِعَیْنِہِ‘ کَمَا یَفْعَلُ الْیَہُوْدُ‘ وَلٰـکِنْ أَخْلِطُہٗ بِغَیْرِہِ‘ فَأَکُوْنُ قَدْ صُمْتُہٗ، بِخِلَافِ مَا تَصُوْمُہُ یَہُوْدٌ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا الْمَعْنَی .
٣٢٢٥: روح نے ابن ابی ذئب سے نقل کیا پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت اسی طرح نقل کی جیسا حدیث سلیمان میں وارد ہے۔ آپ کے ارشاد : ” لا صومن عاشوراء یوم التاسع “ اس میں آپ نے یہ خبر دی کہ یہ دن عاشورہ کا دن ہے اور نویں تاریخ کے روزہ کا مطلب یہ ہے۔ کہ میں نویں تاریخ کو دسویں کے ساتھ ملا کر روزہ رکھوں گا تاکہ دسویں دن کے روزہ رکھنے سے یہود جیسا قصد نہ ہونے پاتے کہ وہ صرف دسویں کا روزہ رکھتے ہیں بلکہ میں اسے دوسرے روزے سے ملا کر رکھوں گا تاکہ میرا روزہ یہود کے روزہ سے مختلف رہے ۔ حضرت ابن عباس (رض) سے اس معنیٰ کی روایات وارد ہیں جو ذیل میں ہے۔
ان روایات میں نویں کو عاشورہ کہا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں دسویں کے ساتھ نویں کو ملا کر روزہ رکھوں گا تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے وہ فقط دسویں کا روزہ رکھتے ہیں اور ابن عباس (رض) نے گزشتہ روایات کا خود معنی یہی بتلایا ہے۔ ملاحظہ ہو۔