hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3227

.

الطحاوي

3227
Al Tahawi
۳۲۲۶ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَطَاء ٌ أَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ (خَالِفُوا الْیَہُوْدَ‘ وَصُوْمُوْا یَوْمَ التَّاسِعِ وَالْعَاشِرِ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ‘ قَدْ صَرَفَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَئِنْ عِشْتُ إِلٰی قَابِلٍ لَأَصُوْمَنَّ یَوْمَ التَّاسِعِ) إِلٰی مَا صَرَفْنَاہُ إِلَیْہِ .وَقَدْ جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٣٢٢٦: عطا نے ابن عباس (رض) کو فرماتے سنا یہود کی مخالفت کرو اور نویں اور دسویں کا روزہ ملا کر رکھو۔ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ حضرت ابن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لئن عشت لا صو من یوم التاسع کا معنیٰ وہی لیا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے اور یہ معنیٰ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مروی ہے جیسا کہ ذیل کی روایت میں ہے۔
ابن عباس (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کو کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں کا روزہ بھی ساتھ رکھوں گا اور ابن عباس (رض) نے یہ مفہوم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے پیش نظر کیا ہے۔ وہ ارشاد یہ ہے۔