hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 324

.

الطحاوي

324
Al Tahawi
۳۲۴ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِئُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبَۃَ قَالَ : سَمِعْت عُبَیْدَ بْنَ رِفَاعَۃَ الْأَنْصَارِیَّ یَقُوْلُ : کُنَّا فِیْ مَجْلِسٍ فِیْہِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَتَذَاکَرْنَا الْغُسْلَ مِنَ الْاِنْزَالِ .ؑفَقَالَ زَیْدٌ : مَا عَلٰی أَحَدِکُمْ اِذَا جَامَعَ فَلَمْ یُنْزِلْ إِلَّا أَنْ یَغْسِلَ فَرْجَہٗ ، وَیَتَوَضَّأَ وُضُوْئَ ہُ لِلصَّلَاۃِ .فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَجْلِسِ ، فَأَتَیْ عُمَرَ فَأَخْبَرَہٗ بِذٰلِکَ .فَقَالَ عُمَرُ لِلرَّجُلِ اذْہَبْ أَنْتَ بِنَفْسِکََ فَائْتِنِیْ بِہٖ حَتّٰی یَکُوْنَ أَنْتَ الشَّاہِدَ عَلَیْہِ .فَذَہَبَ فَجَائَ بِہٖ ، وَعِنْدَ عُمَرَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ عَدُوُّ نَفْسِک ، تُفْتِی النَّاسَ بِھٰذَا ؟ فَقَالَ زَیْدٌ أَمْ وَاللّٰہِ مَا ابْتَدَعْتہ وَلَکِنِّی سَمِعْتہ مِنْ عَمَّایَ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ وَمِنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ .فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ عِنْدَہٗ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَقُوْلُوْنَ ؟ فَاخْتَلَفُوْا عَلَیْہِ .فَقَالَ عُمَرُ : یَا عِبَادَ اللّٰہِ ، فَمَنْ أَسْأَلُ بَعْدَکُمْ وَأَنْتُمْ أَہْلُ بَدْرِ ڑ الْأَخْیَارُ ؟ فَقَالَ لَہٗ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ : فَأَرْسِلْ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہٗ إِنْ کَانَ شَیْئٌ مِنْ ذٰلِکَ ، ظَہَرَتْ عَلَیْہِ .فَأَرْسَلَ إِلٰی حَفْصَۃَ فَسَأَلَہَا فَقَالَتْ : لَا عِلْمَ لِیْ بِذٰلِکَ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عِنْدَ ذٰلِکَ : لَا أَعْلَمُ أَحَدًا فَعَلَہٗ ، ثُمَّ لَمْ یَغْتَسِلْ إِلَّا جَعَلْتُہٗ نَکَالًا .
٣٢٤: عبید بن رفاعہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس بیٹھے تھے ہم نے انزال سے غسل کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا تو زید بن ثابت (رض) کہنے لگے جب تم میں سے کوئی جماع کرے اور اسے انزال نہ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور نماز کے لیے جس طرح وضو کیا جاتا ہے اسی طرح وضو کرے۔
اہل مجلس کا ایک شخص اٹھ کر حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور ان کو اس کی اطلاع دی حضرت عمر (رض) نے اسی آدمی کو کہا تم بذات خود جاؤ اور ان کو میرے پاس لے آؤ تاکہ بذات خود تو ان پر گواہ بن جائے وہ جا کر زید بن ثابت (رض) کو لے آیا اس وقت عمر (رض) کے پاس اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حضرت علی بن ابی طالب اور معاذ بن جبل (رض) بیٹھے تھے۔
حضرت عمر (رض) کہنے لگے تو اپنی جان کا دشمن ہے تو لوگوں کو یہ فتویٰ دیتا ہے ؟ زید (رض) کہنے لگے اللہ کی قسم میں نے اس کو خود نہیں گھڑا بلکہ اپنے دونوں چچا رفاعہبن رافع اور ابو ایوب انصاری (رض) سے سنا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے اپنے قریب اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار فرمایا کہ تم کیا کہتے ہو انھوں نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا۔
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ اے اللہ کے بندو ! تم ہی اہل بدر ہو میں تمہارے علاوہ اور کس سے سوال کروں ؟ تو اس پر حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے رائے کہ امہات المؤمنین ازواج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کریں اگر ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی چیز ہوگی تو آپ پر ظاہر ہوجائے گی حضرت عمر (رض) نے حضرت حفصہ (رض) کی طرف پیغام بھیجا انھوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا پھر حضرت عائشہ (رض) کے ہاں پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا اذا جاوزالختان الختان فقد وجب الغسل کہ ختان کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اس وقت حضرت عمر (رض) نے فرمایا اب میں جس کسی کے متعلق سنو گا کہ اس نے ایسا کیا مگر غسل نہیں کیا تو اس کو سخت سزا دے کر دوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دوں گا۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٧‘