۳۲۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِیْ أُنَیْسَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ الْجَمَلِیِّ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : کَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُفْتُوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا جَامَعَ الْمَرْأَۃَ ، وَلَمْ یُنْزِلْ ، فَلَا غُسْلَ عَلَیْہِ ، وَکَانَ الْمُہَاجِرُوْنَ ، لَا یُتَابِعُوْنَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ .فَھٰذَا یَدُلُّ عَلَیْ نَسْخِ ذٰلِکَ أَیْضًا ، لِأَنَّ عُثْمَانَ ، وَالزُّبَیْرَ ، ہُمَا مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ ، وَقَدْ سَمِعَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہُمَا فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ ثُمَّ قَدْ قَالَا بِخِلَافِ ذٰلِکَ ، فَلَا یَجُوْزُ ذٰلِکَ مِنْہُمَا إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ النَّسْخُ عِنْدَہُمَا .ثُمَّ قَدْ کَشَفَ ذٰلِکَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ ، فَلَمْ یَثْبُتْ ذٰلِکَ عِنْدَہٗ ، فَحَمَلَ النَّاسَ عَلٰی غَیْرِہِ وَأَمَرَہُمْ بِالْغُسْلِ ، وَلَمْ یَعْتَرِضْ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ أَحَدٌ ، وَسَلَّمُوْا ذٰلِکَ لَہٗ ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَی رُجُوْعِہِمْ أَیْضًا إِلٰی قَوْلِہٖ .
٣٢٣: حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ بعض انصار یہ فتویٰ دیتے تھے کہ جب مرد اپنی بیوی سے جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو تو اس پر غسل لازم نہیں اور مہاجرین اس سلسلہ میں ان کی اتباع نہ کرتے تھے۔ یہ بھی ان کے نسخ کی دلیل ہے کیونکہ عثمان و زبیر (رض) دونوں مہاجرین سے ہیں اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ بات سن پائی ہے جو ہم نے اس باب کی ابتداء میں نقل کی ہے۔ پھر انھوں نے اس کے خلاف بات کہی حالانکہ یہ بات ان سے اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ ان کے ہاں نسخ ثابت ہو۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اس بات کو مہاجرین و انصار کے مجمع میں کھول دیا اور ان کے ہاں یہ بات ثابت و قائم نہ تھی اس لیے انھوں نے لوچگوں کو دوسری بات پر آمادہ کیا اور غسل کا حکم فرمایا اور ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا اور اسے تسلیم کرلیا یہ ان کے حضرت عمر (رض) کے قول کی طرف رجوع کی دلیل ہے۔
دلیل رجوع اور ارشاد طحاوی (رح) :
یہ بھی نسخ کی دلیل ہے کیونکہ عثمان اور زبیر (رض) دونوں مہاجرین سے تھے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ سنا جو شروع میں روایت کیا گیا پھر دونوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف بات کہیں بس ایک ہی صورت ہے انھوں نے اس کا منسوخ ہونا آپ سے سنا تب یہ فتویٰ دیا۔
پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں جن میں مہاجرین و انصار ہر دو موجود تھے اس بات کو کھولا ان کے ہاں یہ بات ثابت نہ ہوئی تو انھوں نے دوسری بات پر آمادہ کیا اور غسل کا حکم فرمایا اور کسی ایک نے بھی اس پر اعتراض نہ کیا اور ان کی بات کو تسلیم کرلیا یہ بجائے خود ان انصار کے رجوع کی دلیل ہے۔
اس کی تفصیل اس طرح ہے۔