۳۲۵۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّی‘ قَالَ : ثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ (أَبِیْ سَلْمَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنْ صِیَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ‘ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَصُوْمُ‘ وَکَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ‘ أَوْ عَامَّۃَ شَعْبَانَ) .
٣٢٥٠: ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزے کے سلسلہ میں دریافت کیا تو وہ فرمانے لگیں آپ جب روزہ رکھنا شروع فرماتے تو ہم محسوس کرتیں کہ اب آپ افطار نہ فرمائیں گے اور جب افطار کرتے تو اس طرح لگتا کہ آپ روزہ نہ رکھیں گے آپ شعبان کے روزے رکھتے یا شعبان کے اکثر دنوں کا روزہ رکھتے تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ٥٩۔