hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3251

.

الطحاوي

3251
Al Tahawi
۳۲۵۱ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ الرِّشْکُ‘ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ قَالَتْ : (سُئِلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُوْمُ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ؟ قَالَتْ نَعَمْ .فَقِیْلَ لَہَا : مِنْ أَیِّہِ .قَالَتْ : مَا کَانَ یُبَالِیْ مِنْ أَیِّ الشَّہْرِ صَامَہَا) قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنْ لَا بَأْسَ بِصَوْمِ شَعْبَانَ کُلِّہٖ فَکَانَ مِنْ حُجَّۃِ الْأَوَّلِیْنَ عَلَیْہِمْ‘ أَنَّ الَّذِی رُوِیَ فِیْ ھٰذِہِ الْأَخْبَارِ إِنَّمَا ہُوَ إخْبَارٌ عَنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَمَا قَبْلَ ذٰلِکَ‘ مِمَّا فِیْہِ النَّہْیُ‘ إخْبَارٌ عَنْ قَوْلِہِ فَکَانَ یَنْبَغِیْ أَنْ یُصَحَّحَ الْحَدِیْثَانِ جَمِیْعًا .فَجُعِلَ مَا فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ مُبَاحًا لَہٗ‘ وَمَا نَہٰی عَنْہُ کَانَ مَحْظُوْرًا عَلٰی غَیْرِہِ‘ فَیَکُوْنُ حُکْمُ غَیْرِہٖ فِیْ ذٰلِکَ خِلَافَ حُکْمِہِ حَتّٰی یَصِحَّ الْحَدِیْثَانِ جَمِیْعًا وَلَا یَتَضَادَّانِ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ فِیْ حَدِیْثِ أُسَامَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ فِیْ شَعْبَانَ (ہُوَ شَہْرُ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْ صَوْمِہٖ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ صَوْمَہُمْ إِیَّاہُ أَفْضَلُ مِنَ الْاِفْطَارِ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا۔
٣٢٥١: معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ماہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے پھر پوچھا گیا یہ کس ماہ کی بات ہے ؟ کہنے لگیں آپ اس بات کی پروا نہ کرتے تھے کہ کس ماہ میں رکھ رہے ہیں (یعنی ہر ماہ میں رکھتے تھے) وہ علماء ان روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمام شعبان کے روزے رکھنے میں قباحت نہیں ۔ ان روایات کا جواب دیتے ہوئے فریق اوّل نے کہا کہ ان روایات میں تو عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مذکور ہے اور پہلی روایات جن میں ممانعت مذکور ہے وہ آپ کا قول ہے تو دونوں روایات کی تطبیق وتصحیح کا تقاضا ہے کہ عمل کو آپ سے مخصوص قرار دیا جائے اور ممانعت امت کے لیے تسلیم کی جائے ۔ پس دوسروں کا حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ ہوا تاکہ دونوں روایات میں تصحیح ثابت ہو کر تضاد نہ رہے۔ دوسرے قول والوں کی طرف سے ان کے خلاف دلیل یہ ہے حضرت اسامہ نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ ایسا مہینہ ہے کہ جس میں لوگ روزہ رکھنے سے غافل ہیں ‘ ‘ تو اس ارشاد سے دلالت حاصل ہوگئی کہ اس میں لوگوں کو روزہ رکھنا افطار سے افضل ہے اور جناب رسول اللہ کا ارشاد اس بات کی تائید کرتا ہے روایات ذیل ملاحظہ کریں۔
ان روایات میں اس بات کا ثبوت مہیا ہوگیا کہ آپ شعبان میں روزے رکھتے بلکہ کثرت سے رکھتے تھے پس شعبان میں روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
فریق اوّل کا اشکال :
یہ تمام روایات جو آپ نے ذکر کی ہیں ان میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کی خبر ہے اور فعل میں تو تخصیص کا احتمال ہے پس یہ فعل تو آپ کی ذات سے خاص ہوا اور پہلی روایت میں آپ کے قول و ارشاد کا ذکر ہے پس ممانعت کا تعلق امت سے ہے اس لیے یہ روایات ہمارے مؤقف کے حق میں ہیں ان میں سے کوئی روایت ہمارے مؤقف کے خلاف نہیں۔
الجواب :
آپ کا یہ جواب کافی نہیں ہر فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے ساتھ خاص نہیں جب تک کہ اس میں تخصیص کی خاص دلیل نہ پائی جائے جبکہ یہاں تخصیص کی بجائے حکم کے عام ہونے کا ثبوت مل رہا ہے مثلاً روایت اسامہ میں وارد ہے ” ہو شہر یغفل الناس عن صومہ “ اس روایت میں واضح اشارہ ہے کہ لوگوں کا روزہ رکھنا اس ماہ میں ان کے افطار سے بہتر ہے اور اس کے متعلق یہ کہنا درست نہ رہا کہ یہ آپ کی خصوصیت ہے باقی صراحت کے ساتھ دیگر روایات میں یہ بات پائی جاتی ہے۔