۳۲۷۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : سَمِعْت غَیْلَانَ بْنَ جَرِیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِیِّ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ قَالَ : (سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا .قَالَ ذَاکَ صَوْمُ دَاوٗدَ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَکَیْفَ مَنْ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمَیْنِ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّیْ طُوِّقْتُ عَلٰی ذٰلِکَ) فَلَمَّا أَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ الْمُتَوَاتِرَۃِ صَوْمَ یَوْمٍ وَإِفْطَارَ یَوْمٍ مِنْ سَائِرِ الدَّہْرِ دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ صَوْمَ مَا بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ مِمَّا قَدْ دَخَلَ فِیْ اِبَاحَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٣٢٧٩: عبداللہ بن معبدالزمانی نے ابو قتادہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے آپ نے فرمایا یہ داؤد (علیہ السلام) والے روزے ہیں اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ آدمی کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا اور دو دن افطار کرتا ہے آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میں اس کی طاقت پاتا۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آثار متواترہ میں ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کی ہمیشہ اجازت مرحمت فرمائی ۔ تو اس سے واضح دلالت مل گئی کہ اس اباحت میں شعبان کا آخری آدھا حصہ بھی داخل ہے۔ جس کی رخصت عبداللہ بن عمرو (رض) کو دی ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
تخریج : مسلم فی الصیام ١٩٦‘ ابو داؤد فی الصوم باب ٥٣‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ٣١‘ مسند احمد ٥؍٣١١۔
حاصل روایات : ان آثار متواترہ میں ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کو جب عبداللہ بن عمرو (رض) کے لیے مباح قرار دیا گیا ہے اور تمام دنوں کے لیے ایسا کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو نصف شعبان کے دن بھی اس میں شامل ہیں ورنہ استثناء کیا جاتا جو کہ کسی روایت میں موجود نہیں پس نفلی روزے کی اباحت ایام ممنوعہ کے علاوہ تمام دنوں میں ثابت ہوگئی۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں بھی کراہت اور اباحت کا اختلاف ہے امام طحاوی (رح) کا رجحان فریق ثانی کی طرف ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شعبان کے روزے رکھنے کو نو روایات سے پیش کیا اور شعبان کے روزے کی فضیلت والی روایات کو پانچ اسناد سے ذکر کیا پھر آخر میں صیام داؤد کی افضلیت کو جو شعبان وغیر شعبان سب کو شامل ہے سولہ اسناد سے نقل کیا ہے جس سے اباحت خوب ثابت ہوگئی۔