۳۲۸۱ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ : قُلْت لِأَبِیْ أُسَامَۃَ : أَحَدَّثَکُمْ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ عُمَرُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُہٗ لَا یَنْظُرُنِیْ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا شَأْنِیْ؟ قَالَ : " أَلَسْت الَّذِیْ تُقَبِّلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ " فَقُلْتُ : وَاَلَّذِیْ بَعَثَک بِالْحَقِّ إِنِّیْ لَا أُقَبِّلُ بَعْدَ ھٰذَا وَأَنَا صَائِمٌ فَأَقَرَّ بِہِ ثُمَّ قَالَ " نَعَمْ " وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِمَا رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٣٢٨١ : سالم نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ عمر (رض) کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا میں نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ میری طرف دیکھتے ہی نہیں میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا کیا معاملہ ہے ؟ (کہ جس سے آپ اعراض فرما رہے ہیں) آپ نے فرمایا کیا تو وہی نہیں جو روزے کی حالت میں بوسہ لیتا ہے ؟ میں نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آئندہ روزہ کی حالت میں کبھی بوسہ نہ لوں گا میں اس پر برقرار رہوں گا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اور انھوں نے اس سلسلہ میں ابن مسعود (رض) کی ان روایات سے بھی استدلال کیا ہے۔ روایات ذیل میں ہیں۔