hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3289

.

الطحاوي

3289
Al Tahawi
۳۲۸۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہٗ سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِیْہَا لِلشَّیْخِ وَکَرِہَہَا لِلشَّابِّ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ ھٰذَا کَانَ - عِنْدَہٗ - أَوْلَی مِمَّا حَدَّثَہُ بِہِ عُمَرُ مِمَّا ذَکَرَہُ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ فِیْ حَدِیْثِہٖ .وَأَمَّا مَا قَدْ احْتَجُّوْا بِہٖ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَإِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ أَیْضًا خِلَافُ ذٰلِکَ
٣٢٨٩: مورق نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ ان سے روزہ دار کے بوسہ کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو انھوں نے بوڑھے کے حق میں اس کی اجازت دی اور جو ان کے حق میں ممانعت فرمائی اور ناپسند قرار دیا۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ یہ ان کے ہاں اس سے بہتر تھا ۔ جو ان کو حضرت عمر (رض) نے ان کو بیان کی اور جس کو عمر بن حمزہ اپنی روایت میں لائے ۔ باقی قول ابن مسعود (رض) جس کو انھوں نے اپنا مستدل بنایا تو ان سے اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے جیسا ذیل میں ہے۔
اس فتویٰ سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ عمر بن حمزہ والی منامی روایت سے ابن عمر (رض) کے ہاں یہ عمل اولیٰ و بہتر تھا۔
نمبر 3: روایت ابن مسعود (رض) کا جواب یہ ہے کہ راوی کا خود اپنا عمل اس روایت کے خلاف ہے اس روایت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے۔