hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3290

.

الطحاوي

3290
Al Tahawi
۳۲۹۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا إِسْرَائِیْلُ عَنْ طَارِقٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُبَاشِرُ امْرَأَتَہٗ وَہُوَ صَائِمٌ فَقَدْ تَکَافَأَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ وَمَا رَوَی الْہِزْہَازُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ وَأَمَّا مَا ذَکَرُوْہُ مِنْ قَوْلِ سَعِیْدٍ یَعْنِی ابْنَ الْمُسَیِّبِ أَنَّہٗ یَنْقُضُ صَوْمُہُ فَإِنَّ مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ تَشْبِیْہِہٖ ذٰلِکَ بِالْمَضْمَضَۃِ أَوْلٰی مِنْ قَوْلِ سَعِیْدٍ ثُمَّ قَالَ بِذٰلِکَ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا سَنَذْکُرُ ذٰلِکَ عَنْہُمْ فِیْ آخِرِ ھٰذَا الْبَابِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ .وَقَدْ جَائَ تِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَاتِرَۃً بِأَنَّہٗ کَانَ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ فَمِنْ ذٰلِکَ۔
٣٢٩٠: حکیم بن جابر کہتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) اپنی بیوی سے روزہ کی حالت میں بوس و کنار کرتے تھے۔ تو ان کی یہ روایت اور ہزہاز والی روایت دونوں ایک دوسری کے خلاف ہوگئیں۔ اب رہا ابن مسیب (رح) کا قول کو بوس وکنار والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشاد میں اس کو کلی سے مشابہت دی وہ ابن مسیب (رح) کے قول سے بہتر ہے۔ پھر اس کو صحابہ کرام کی ایک جماعت نے نقل کیا جس کو باب کے اخر میں ہم ذکر کریں گے ان شاء اللہ) اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے متواتر روایات آئی ہیں کہ آپ حالت روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
اب عمل راوی جب فتویٰ کے خلاف ہوا تو وہ روایت متروک و منسوخ ہوئی۔
نمبر$: سعید بن المسیب (رح) کا فتویٰ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سعید کا یہ فتویٰ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مضمضہ والے ارشاد کے خلاف ہے اس لیے مسترد ہوگا اور سعید بن المسیب کی روایت سے جو عمر (رض) کا قول ہے وہ حضرت عمر (رض) والی روایت کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردار و مسترد ہوگا۔