۳۳۲۲ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ أَبِی النَّضْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ بِنْتَ طَلْحَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ وَہُوَ صَائِمٌ فَقَالَتْ لَہٗ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (مَا یَمْنَعُک أَنْ تَدْنُوَ مِنْ أَہْلِک فَتُقَبِّلَہَا ؟) قَالَ : أُقَبِّلُہَا وَأَنَا صَائِمٌ .قَالَتْ لَہٗ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (نَعَمْ) .
٣٣٢٢: عائشہ بنت طلحہ نے بتلایا کہ میں امّ المؤمنین عائشہ (رض) کے ہاں تھی اس وقت میرا خاوند عبداللہ بن عبدالرحمن ان کے ہاں آیا وہ روزہ سے تھا تو حضرت عائشہ (رض) نے اسے فرمایا تمہیں اپنے اہل سے قریب ہو کر اس کو بوسہ لینے میں کون سی چیز مانع ہے تو عبداللہ نے کہا کیا روزہ کی حالت میں ‘ میں اس کا بوسہ لوں ؟ عائشہ (رض) نے فرمایا۔ ہاں۔