hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3323

.

الطحاوي

3323
Al Tahawi
۳۳۲۳ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا شُعَیْبٌ قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیْلٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ عِقَالٍ أَنَّہٗ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا (مَا یَحْرُمُ عَلَیَّ مِنْ امْرَأَتِی وَأَنَا صَائِمٌ ؟) قَالَتْ (فَرْجُہَا) فَھٰذِہٖ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَقُوْلُ فِیْمَا یَحْرُمُ عَلَی الصَّائِمِ مِنْ امْرَأَتِہٖ وَمَا یَحِلُّ لَہٗ مِنْہَا مَا قَدْ ذَکَرْنَا فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْقُبْلَۃَ کَانَتْ مُبَاحَۃً عِنْدَہَا لِلصَّائِمِ الَّذِیْ یَأْمَنُ عَلٰی نَفْسِہِ وَمَکْرُوْہَۃً لِغَیْرِہِ لَیْسَ لِأَنَّہَا حَرَامٌ عَلَیْہِ وَلٰـکِنَّہٗ لِأَنَّہٗ لَا یَأْمَنُ اِذَا فَعَلَہَا مِنْ أَنْ تَغْلِبَہٗ شَہْوَتُہٗ حَتّٰی یَقَعَ فِیْمَا یَحْرُمُ عَلَیْہِ۔
٣٣٢٣: حکیم بن عقال کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ روزے کی حالت میں مجھ پر میری بیوی کی کون سی چیز حرام ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ شرمگاہ۔ یہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ہیں جو یہ بتلارہی ہیں کہ روزہ دار کو اپنی بیوی سے کیا چیز حرام ہے اور کیا چیز جائز و حلل ہے جس کو ہم نے ذکر کردیا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان کے ہاں اس روزہ دار کے لیے بوسہ جائز تھا جس کو اپنے اوپر اطمینان اور دوسرے کے لیے مکروہ تھا۔ یہ بات نہیں کہ وہ اس پر حرام تھا ۔ لیکن اس بات کے پیش نظر کہ جب وہ بوسہ لے گا اور اسے اپنے اوپر اطمینان نہیں تو اس پر اس کی شہوت غالب آکر وہ اس کو حرام میں مبتلا کردے گی۔
یہ عائشہ (رض) فرما رہی ہیں کہ روزہ دار کے لیے جماع کے علاوہ اپنی بیوی سے ہر چیز حلال ہے پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ہاں بوسہ اس کے لیے مباح تھا جس کو اپنے نفس پر قابو ہو اور جس کو قابو نہ ہو اس کے لیے وہ درست قرار نہ دیتی تھیں اس بناء پر نہیں کہ وہ بوسہ اس کے لیے حرام ہے بلکہ اس وجہ سے کہ کہیں وہ غلبہ شہوت میں حرام کا ارتکاب نہ کر بیٹھے گویا احتیاطاً ممانعت فرماتی تھیں۔