hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3326

.

الطحاوي

3326
Al Tahawi
۳۳۲۶ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَعِیْشَ بْنِ الْوَلِیْدِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائَ فَأَفْطَرَ) قَالَ : فَلَقِیَتْ ثَوْبَانَ فِیْ مَسْجِدٍ دِمَشْقِیٍّ فَقَالَ (صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَہٗ وَضُوْئَ ہٗ)
٣٣٢٦: معدان بن ابی طلحہ نے ابوالدرداء (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قے کی پس روزہ افطار کردیا معدان کہتے ہیں کہ میں ثوبان (رض) سے ملا وہ جامع مسجد دمشق میں تھے تو انھوں نے کہا ابوالدرداء (رض) نے درست کہا ہے میں نے ہی آپ کے لیے وضو کا پانی ڈالا۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ٣٢‘ دارمی فی الصوم باب ٢٤‘ مسند احمد ٥؍١٩٥‘ ٦؍٤٤٣۔
حاصل روایات : منہ بھر کر قے جان بوجھ کر کر ڈالی یا منہ بھر کر قے بلاقصد آئی مگر قصداً اسے لوٹا لیا ان دونوں صورتوں میں سب کے ہاں بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں ان میں اختلاف ہے۔
نمبر 1: امام اوزاعی و عطا کے ہاں قے بلااختیار یا بالاختیار خواہ کم ہو یا زیادہ بہرحال اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
نمبر 2: اوپر مذکور دونوں صورتیں اور بالقصد جان بوجھ کر کم مقدار قے میں امام ابو یوسف تو روزہ کو فاسد نہیں مانتے جبکہ امام محمد کے ہاں روزہ فاسد ہوجاتا ہے ان تینوں صورتوں کے علاوہ بقیہ صورتوں میں روزے کے فساد اور عدم فساد میں اختلاف ہے امام اوزاعی ہر حال میں فساد صوم کے قائل ہیں جبکہ دیگر تمام ائمہ فقہاء روزہ کو فاسد نہیں مانتے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : قے کم ہو یا زیادہ بالقصد ہو یا بلااختیار اس سے بہرحال روزہ ٹوٹ جاتا ہے دلائل یہ روایات ہیں۔