۳۳۲۵ : وَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا ہِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ الدِّمَشْقِیُّ الْعَطَّارُ قَالَ : ثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِیْ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ قُبْلَۃِ الصَّائِمِ .فَقَالَ عَلِیٌّ (یَتَّقِی اللّٰہَ وَلَا یَعُوْدُ) فَقَالَ عُمَرُ : إِنْ کَانَتْ ھٰذِہٖ لَقَرِیْبَۃٌ مِنْ ھٰذِہِ فَقَوْلُ عَلِیٍّ (یَتَّقِی اللّٰہَ وَلَا یَعُوْدُ) یَحْتَمِلُ (وَلَا یَعُوْدُ لَہَا ثَانِیَۃً) أَیْ لِأَنَّہَا مَکْرُوْہَۃٌ لَہٗ مِنْ أَجْلِ صَوْمِہٖ وَیَحْتَمِلُ (وَلَا یَعُوْدُ) أَیْ یُقَبِّلُ مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ فَیَکْثُرُ ذٰلِکَ مِنْہُ فَیَتَحَرَّکُ لَہٗ شَہْوَتُہُ فَیُخَافُ عَلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ مُوَاقَعَۃُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَقَوْلُ عُمَرَ (ھٰذِہِ قَرِیْبَۃٌ مِنْ ھٰذِہِ) أَیْ أَنَّ ھٰذِہِ الَّتِیْ کَرِہْتُہَا لَہٗ قَرِیْبَۃٌ مِنَ الَّتِی أَبَحْتُہَا لَہٗ أَوْ إِنَّ ھٰذِہِ الَّتِیْ أَبَحْتُہَا لَہٗ قَرِیْبَۃٌ مِنَ الَّتِیْ کَرِہْتُہَا لَہٗ فَلاَ دَلَالَۃَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ وَلٰـکِنَّ الدَّلَالَاتِ فِیْمَا قَدْ تَقَدَّمَہٗ مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہُ قَبْلَہٗ.
٣٣٢٥: ابو حبان تیمی نے اپنے والد سے روایت کی کہ عمر (رض) نے علی (رض) سے روزہ دار کے بوسہ کے سلسلہ میں سوال کیا تو علی (رض) نے کہا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور دوبارہ ایسا نہ کرے تو عمر (رض) نے کہا ان کانت ہذہ لقریبۃ من ہذہ تو علی (رض) نے دوبارہ یہی جملہ فرمایا۔ اس روایت میں اگرچہ کوئی دلالت ایسی نہیں لیکن اس سے پہلی روایات میں ایسی دلالتیں موجود ہیں جو ہم پہلے ذکر کرچکے
یتقی اللہ ولا یعود اس جملے میں دو احتمال ہیں۔
نمبر 1: کہ ایک دفعہ بوس و کنار کرلیا تو دوبارہ نہ کرے کیونکہ روزے کی وجہ سے یہ مکروہ ہے۔
نمبر 2: ایک بوسہ دے دیا تو بس بار بار بوسہ نہ شروع کر دے کہ یہ چیز اس کی شہوت کو ابھار دے گی اور کہیں وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز میں مبتلا نہ ہوجائے۔ قول عمر (رض) ہذہ قریبۃ من ہذہ آپ کا قول تو اس کے قریب ہے جس کو میں نے مکروہ سمجھا ہے۔
نمبر 2: میں نے جس کو مباح قرار دیا ہے وہ آپ کے اس قول کے قریب ہے جس کو آپ نے مکروہ قرار دیا ہے۔
یہ مجمل مکالمہ ہے جس سے کوئی بات ظاہر نہیں ہوتی مگر ماقبل آثار اور صحابہ کرام کے ارشادات میں ایسے دلائل ہیں جو کسی مزید دلیل کے محتاج نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔