hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3349

.

الطحاوي

3349
Al Tahawi
۳۳۴۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ (أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الْحِجَامَۃَ تُفْطِرُ الصَّائِمَ حَاجِمًا کَانَ أَوْ مَحْجُوْمًا وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا تُفْطِرُ الْحِجَامَۃُ حَاجِمًا وَلَا مَحْجُوْمًا وَقَالُوْا : لَیْسَ فِیْمَا رَوَیْتُمُوْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِہٖ (أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ) مَا یَدُلُّ أَنَّ ذٰلِکَ الْفِطْرَ کَانَ مِنْ أَجْلِ الْحِجَامَۃِ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّہُمَا أَفْطَرَا بِمَعْنًی آخَرَ وَصَفَہُمَا بِمَا کَانَا یَفْعَلَانِہِ حِیْنَ أَخْبَرَ عَنْہُمَا بِذٰلِکَ کَمَا یَقُوْلُ (فَسَقَ الْقَائِمُ) لَیْسَ إِنَّہٗ فَسَقَ بِقِیَامِہٖ وَلٰکِنَّہٗ فَسَقَ بِمَعْنًی غَیْرِ الْقِیَامِ وَقَدْ رُوٰی عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ وَہُوَ أَحَدُ مَنْ رَوَیْ ذٰلِکَ الْحَدِیْثَ فِیْ ھٰذَا الْمَعْنٰی۔
٣٣٤٩: سعید بن مسیب نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا : افطرالحاجم والمحجوم۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں۔ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ سینگی لگانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے انھوں نے ان آثار کو اپنا مستدل بنایا اور دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (ان روایات کے جواب میں انھوں نے کہا) کہ ان روایات میں ” افطر الحاجم والمحجوم “ میں تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ سینگی لگانے کی وجہ سے ٹوٹا۔ عین ممکن ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی اور بناء پر ان کے روزہ ٹوٹنے کا ذکر فرمایا ہو ۔ مگر بیان کرتے ہوئے ان کے وقتی عمل کا ذکر کیا ۔ جیسا کوئی اس طرح کہے کہ کھڑا ہونے والا فاسق ہوگیا ۔ اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ کھڑا ہونے کی وجہ سے فاسق ہوا بلکہ فسق کی اور کوئی وجہ ہے اس مفہوم کو ابو الاشعث صنعانی نے بھی اپنی روایت میں ذکر کیا ہے اور وہ اس حدیث میں من جملہ روات کے ہیں ‘ روایت ذیل میں ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سینگی لگوانے اور لگانے والا اگر دونوں روزہ دار ہوں تو دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور ان پر قضا لازم ہوگی۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل و جواب :
سینگی لگوانے اور لگانے والے میں سے کسی کا بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جب ٹوٹا نہیں تو قضا کیسی۔ باقی روایت کے سلسلہ میں گزارش یہ ہے۔
u: اس روایت سے آپ کا استدلال درست نہیں کیونکہ یہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ سینگی لگانا یا لگوانا۔ روزہ ٹوٹنے کا باعث ہے ممکن ہے کہ افطار تو کسی اور سبب سے ہو اور آپ نے موقعہ کے فعل کو افطار سے تعبیر کردیا جیسا کہ ابوالاشعث صنعانی کی روایت خود اس پر دلالت کرتی ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا افطرالحاجم والمحجوم۔ کیونکہ وہ دونوں اس وقت غیبت میں مصروف تھے اور افطار سے بھی وہ افطار مراد نہیں جو کھانے پینے اور جماع سے ہوتا ہے بلکہ افطار اس اعتبار سے فرمایا کہ ان کا عمل ضائع ہوگیا ان کا روزہ رکھنا اور افطار کرنا برابر ٹھہرا۔ یہ غیبت والا افطار قضا کا باعث نہیں۔ روایت آگے ملاحظہ ہو۔