۳۳۵۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْوُحَاظِیُّ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ رَبِیْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ قَالَ : إِنَّمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ) لِأَنَّہُمَا کَانَا یَغْتَابَانِ وَھٰذَا الْمَعْنٰی مَعْنًی صَحِیْحٌ وَلَیْسَ إِفْطَارُہُمَا ذٰلِکَ کَالْاِفْطَارِ بِالْأَکْلِ وَالشُّرْبِ وَالْجِمَاعِ وَلٰـکِنَّہٗ حَبِطَ أَجْرُہُمَا بِاغْتِیَابِہِمَا فَصَارَا بِذٰلِکَ مُفْطِرَیْنِ لَا أَنَّہٗ إِفْطَارٌ یُوْجِبُ عَلَیْہِمَا الْقَضَائَ وَھٰذَا کَمَا قِیْلَ : الْکَذِبُ یُفْطِرُ الصَّائِمَ لَیْسَ یُرَادُ بِہِ الْفِطْرُ الَّذِیْ یُوْجِبُ الْقَضَائَ إِنَّمَا ہُوَ عَلَیْ حُبُوْطِ الْأَجْرِ بِذٰلِکَ کَمَا یُحْبَطُ بِالْأَکْلِ وَالشُّرْبِ .وَھٰذَا نَظَرُ مَا حَمَلْنَاہُ نَحْنُ عَلَیْہِ مِنَ التَّأْوِیْلِ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ وَقَدْ رَوَیْ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ مَعْنًی آخَرَ
٣٣٥٠: ابوالاشعث صنعانی کہتے ہیں بلاشبہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افطرالحاجم والمحجوم فرمایا کیونکہ وہ دونوں غیبت میں مصروف تھے۔ روایت کا یہ معنیٰ درست ہے اور ان دونوں کا افطار اس طرح کا نہیں جیسا کھانے ‘ پینے اور جماع کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بلکہ غیبت کے سبب ان کا ثواب جاتا رہا اس طرح وہ روزہ توڑنے والے قرار پائے۔ یہ ٹوٹنا اس طرح کا نہیں جس سے قضاء لازم ہوتی ہو اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہ جھوٹ روزہ دار کا روزہ توڑ دیتا ہے۔ اس سے مراد قضاء لازم آنے والا ٹوٹنا نہیں بلکہ اس سے اجر کا ضائع ہو نامراد ہے جیسا بظاہر کھانے پینے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور اجر بھی پھوٹ جاتا ہے۔ یہ مذکورہ تاویل جیسی نظر ہے۔ صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت نے اس سلسلہ میں ایک اور معنی بھی نقل کیا ہے۔ ذیل کی روایات میں ملاحظہ ہو۔
یہ مفہوم درست ہے جیسا کہتے ہیں الکذب یفطرالصائم اس سے وہ افطار مراد نہیں ہوتا جس سے قضا لازم ہوتی ہے بلکہ ضیاع اجر والا افطار مراد ہے جیسا کہ کھانے پینے سے روزہ بظاہراً بھی ٹوٹ جاتا ہے اور اجر بھی حبط ہوجاتا ہے۔