۳۳۵۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِیْ جَعْفَرٍ وَسَالِمٍ عَنْ سَعِیْدٍ وَمُغِیْرَۃَ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ وَلَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ (إِنَّمَا کُرِہَتِ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ مَخَافَۃَ الضَّعْفِ) فَدَلَّتْ ھٰذِہِ الْآثَارُ عَلٰی أَنَّ الْمَکْرُوْہَ مِنْ أَجْلِہِ الْحِجَامَۃُ فِی الصِّیَامِ ہُوَ الضَّعْفُ الَّذِیْ یُصِیْبُ الصَّائِمَ فَیُفْطِرُ مِنْ أَجْلِہٖ بِالْأَکْلِ وَالشُّرْبِ وَقَدْ رُوِیَ نَحْوٌ مِنْ ھٰذَا الْمَعْنَیْ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ
٣٣٥٥: ابراہیم و لیث نے مجاہد سے انھوں عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ میں روزہ دار کے لیے سینگی کو اس لیے ناپسند کرتا ہوں کہ اس سے ضعف پیدا نہ ہوجائے۔ روایات سے یہ وضاحت مل گئی کہ روزے کی حالت سینگی لگونے کی کراہت کا اصل باعث وہ کمزوری ہے جو اس کی بناء پر پیش آتی ہے اور وہ اس کمزوری کے لیے کھانے کی بناء پر روزہ توڑ دیتا ہے۔ حضرت ابو العالیہ (رح) نے بھی قریبا اسی مفہوم کو ذکر کیا ہے۔ روایت ذیل میں ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے میں سینگی کے ناپسند ہونے کی وجہ ضعف کا خطرہ ہے جو کہ خون کے نکلنے کی وجہ سے روزہ دار کو پیش آتا ہے اور اس کے ازالہ کے لیے پھر وہ کھا پی کر روزہ افطار کردیتا ہے گویا یہ سبب کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔