۳۳۵۶ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ : أَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ أَنَّ أَبَا الْعَالِیَۃِ قَالَ (إِنَّمَا کُرِہَتْ مَخَافَۃَ أَنْ یُغْشٰی عَلَیْہِ) قَالَ فَأَخْبَرْتُ بِذٰلِکَ أَبَا قِلَابَۃَ فَقَالَ لِی إِنْ غُشِیَ عَلَیْہِ یُسْقَی الْمَائَ وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْمَعْنٰی أَیْضًا بِعَیْنِہٖ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ۔
٣٣٥٦: حماد نے عاصم احول سے بیان کیا کہ ابوالعالیہ کہنے لگے میں سینگی کو روزہ دار کے لیے اس وجہ سے ناپسند کرتا ہوں کہ کہیں اس کی وجہ سے اس پر غشی نہ آجائے حماد کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ کو یہ بات بیان کی تو وہ مجھے فرمانے لگے اگر اس پر غشی طاری ہوجائے تو اس کو پانی پلایا جائے۔ یہی مفہوم من وعن سالم بن عبداللہ (رح) نے بھی بیان کیا ہے۔