hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3357

.

الطحاوي

3357
Al Tahawi
۳۳۵۷ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَہُوَ یَذْکُرُ قَوْلَ النَّاسِ (أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ) فَقَالَ الْقَاسِمُ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا حَجَمَ یَدَہُ أَوْ بَعْضَ جَسَدِہِ مَا یُفْطِرُہُ ذٰلِکَ فَقَالَ سَالِمٌ : إِنَّمَا کُرِہَتَ الْحِجَامَۃُ لِلصَّائِمِ مَخَافَۃَ أَنْ یُغْشَیْ عَلَیْہِ فَیُفْطِرَ وَالْمَعْنَی الَّذِی رُوِیَ فِیْ تَأْوِیْلِ ذٰلِکَ عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ کَأَنَّہٗ أَشْبَہٗ بِذٰلِکَ لِأَنَّ الضَّعْفَ لَوْ کَانَ ہُوَ الْمَقْصُوْدَ بِالنَّہْیِ إِلَیْہِ لَمَا کَانَ الْحَاجِمُ دَاخِلًا فِیْ ذٰلِکَ فَإِذَا کَانَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ قَدْ جُمِعَا فِیْ ذٰلِکَ أَشْبَہَ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ لِمَعْنًی وَاحِدٍ ہُمَا فِیْہِ سَوَاء ٌ مِثْلُ الْغَیْبَۃِ الَّتِیْ ھُمَا فِیْہَا سَوَاء ٌ کَمَا قَالَ أَبُوَ الْأَشْعَثِ .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیْمَ أَنَّہُمَا قَالَا (إِنَّمَا کُرِہَتْ مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ أَیْضًا)
٣٣٥٧: یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد کو افطرالحاجم والمحجوم کا تذکرہ کرتے سنا تو قاسم کہنے لگے اگر کوئی آدمی اس کے ہاتھ یا جسم کے کسی حصہ پر سینگی لگائے تو یہ چیز اس کے روزے کو نہ توڑے گی سالم کہنے لگے میں تو روزہ دار کے لیے سینگی اس لیے ناپسند کرتا ہوں کہ کہیں اس کی وجہ سے روزہ دار پر غشی نہ آجائے اور پھر اسے روزہ توڑنا پڑے۔ حضرت اشعث کی تاویل میں جس معنیٰ کو ذکر کیا گیا وہ زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ اگر ممانعت کی وجہ کمزوری ہوتی تو سینگی لگانے والا اس میں شامل نہ ہوتا ۔ پھر جب اس میں سینگی لگانے اور لگوانے والا شامل ہیں تو وہ بات سب سے بہتر ہوگی جو ان دونوں میں پائی جائے گی مثلاً غیبت دونوں میں برابر ہے۔ جیسا کہ ابو الاشعث نے فرمایا اور حضرت شعبی اور ابراہیم سے بھی مروی ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ کمزوری کی وجہ سے مکروہ ہے۔ روایات ذیل میں ہیں۔
استدراک : ابوالاشعث کی اس تاویل میں ضعف کو مقصود مانا جائے تو پھر محجوم تو اس کا شکار ہے مگر حاجم پر وہ درست نہ بیٹھے گی البتہ جو تاویل ان دونوں کو جمع کرنے والی ہے وہ غیبت وغیرہ والی ہے کہ توبیخ کے طور پر دونوں کو فرمایا اور غیبت میں تو شریک بھی دونوں ہیں۔