۳۴۳۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ وَلِأَہْلِ الشَّامِ الْجُحْفَۃَ وَلِأَہْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَلِأَہْلِ الْیَمَنِ یَلَمْلَمَ) وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْہُ قِیْلَ لَہٗ : فَالْعِرَاقُ؟ قَالَ : لَمْ یَکُنْ یَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ۔
٣٤٣٩: عبداللہ بن دینار نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن ‘ اور اہل یمن کے لیے یلملم اور یہ میں نے ان سے نہیں سنا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اہل عراق کے لیے تو انھوں نے فرمایا ان دنوں عراق (کا علاقہ اسلام میں) نہ تھا۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ٧‘ ٩‘ والصید باب ١٨‘ مسلم فی الحج ١١؍١٢‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨‘ نسائی فی المناسک باب ١٩؍٢٠‘ ٢١؍٢٢‘ دارمی فی المناسک باب ٥‘ مسند احمد باب ١؍٢٣٨‘ ٢؍٤٦‘ ٥٨‘ ١٨١‘ ٨١‘ ١٠٧۔
حاصل روایات : مواقیت یہ میقات کی جمع ہے۔ احرام باندھنے کا وقت یا جگہ کو کہا جاتا ہے حج میں ارکان امام شافعی (رح) کے ہاں احرام وقوف عرفات سعی صفا مروہ طواف و حلق۔ مگر امام مالک (رح) نے حلق کے بغیر چار ارکان بتلائے امام ابوحنیفہ (رح) کے ہاں احرام شرط اور سعی واجب ہے اور ارکان حج وقوف عرفات اور طواف زیارت ہیں۔ میقات احادیث کی رو سے چھ ہیں۔
نمبر 1: اہل مدینہ اور اس طرف سے آنے والے تبوک اردن ینبوع وغیرہ کے لوگوں کا میقات ذوالحلیفہ ہے۔
نمبر 2: جبل قرن یہ عرفات سے طائف کی طرف پڑتا ہے ریاض اور خلیجی ممالک سے آنے والوں کا میقات ہے۔
نمبر 3: جحفہ اس کو رابع بھی کہا جاتا ہے یہ شام ‘ مصر ‘ الجزائر ‘ سوڈان ‘ افریقی ممالک کا میقات ہے۔ براعظم یورپ کا میقات بھی یہی ہے۔
نمبر$: یلملم بحری راستہ سے جدہ جہاز جو پاکستان ‘ ہند ‘ برما ‘ بنگلہ دیش ‘ ملائشیا ‘ انڈونیشیاء ‘ آسٹریلیائی علاقوں اور اہل یمن کا میقات ہے۔
نمبر%: اہل مدین کا میقات وادی عقیق ہے۔
نمبر &: ذات عرق اس کے متعلق اختلاف ہے۔ ! امام شافعی ‘ سفیان ‘ ابن سیرین کے ہاں اہل عراق وادی عقیق سے احرام باندھیں افضل یہی ہے ان کا میقات مقرر نہیں ہے مگر " امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ احمد اور جمہور فقہاء رحمہم اللہ ذات عرق کو متعین میقات مانتے ہیں۔ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اس باب میں اسی سے متعلق بحث کی گئی ہے یہی چائنا ‘ خراسان ‘ ازبکستان ‘ روس وغیرہ ممالک کا میقات ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : اہل عراق وغیرہ کا میقات مقرر نہیں ان کو وادی عقیق سے احرام باندھنا افضل ہے البتہ وہ جس میقات سے گزریں ان کے لیے وہی میقات ہے دلیل یہ روایات ہیں۔