۳۴۷۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہُ قَائِمَۃً أَہَلَّ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ) فَلَمَّا اخْتَلَفُوْا فِیْ ذٰلِکَ أَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ مِنْ أَیْنَ جَائَ اخْتِلَافُہُمْ ؟
٣٤٧١: نافع نے ابن عمر (رض) سے نقل کیا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکاب میں پاؤں مبارک رکھا اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو ذوالحلیفہ سے آپ نے احرام باندھا۔ پس جب وہ اس سلسلہ میں مختلف ہیں تو اب ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اختلاف کس جگہ سے آیا ہے۔
لغات : الغرز۔ اونٹنی کی رکاب۔ جو چمڑے یا بالوں کی رسی سے بنی ہو۔ انبعث۔ اٹھنا۔
تخریج : مسلم فی الحج ٢٧۔
مقامِ اختلاف کی تلاش :
اب ہم نے غور کیا تو تین باتیں سامنے آئیں ایک جماعت نے کہا مسجد ذوالحلیفہ سے آپ نے احرام باندھا۔
نمبر 2: اونٹنی پر پورے طور پر بیٹھ گئے تب احرام باندھا۔
نمبر 3: بیداء پہاڑی پر چڑھ کر احرام باندھا۔
اس سلسلے میں ابن عباس (رض) کا بیان پڑھئے۔