hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3472

.

الطحاوي

3472
Al Tahawi
۳۴۷۲ : فَإِذَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَہْلٍ الْکُوْفِیُّ قَدْ حَدَّثَنَا إِمْلَائً قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : قِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : کَیْفَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِیْ إہْلَالِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ : أَہَلَّ فِیْ مُصَلَّاہُ وَقَالَتْ طَائِفَۃٌ : حِیْن اسْتَوَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ. وَقَالَتْ طَائِفَۃٌ : حِیْنَ عَلَا عَلَی الْبَیْدَائِ فَقَالَ : سَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذٰلِکَ (إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہَلَّ فِیْ مُصَلَّاہُ فَشَہِدَہٗ قَوْمٌ فَأَخْبَرُوْا بِذٰلِکَ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِہٖ رَاحِلَتَہٗ أَہَلَّ فَشَہِدَہُ قَوْمٌ لَمْ یَشْہَدُوْہُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُوْلٰی فَقَالُوْا : أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّاعَۃَ فَأَخْبَرُوْا بِذٰلِکَ فَلَمَّا عَلَا عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ فَشَہِدَہُ قَوْمٌ لَمْ یَشْہَدُوْہُ فِی الْمَرَّتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ فَقَالُوْا : أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّاعَۃَ فَأَخْبَرُوْا بِذٰلِکَ وَإِنَّمَا کَانَ إہْلَالُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مُصَلَّاہٗ) فَبَیَّنَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا الْوَجْہَ الَّذِیْ مِنْہُ جَائَ اخْتِلَافُہُمْ وَأَنَّ إہْلَالَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی ابْتَدَأَ الْحَجَّ وَدَخَلَ بِہٖ فِیْہِ کَانَ فِیْ مُصَلَّاہُ .فَبِھٰذَا نَأْخُذُ وَیَنْبَغِی لِلرَّجُلِ اِذَا أَرَادَ الْاِحْرَامَ أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یُحْرِمُ فِیْ دُبُرِہِمَا کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِیْ ذٰلِکَ شَیْء ٌ مِمَّا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا
٣٤٧٢: خصیف نے سعید بن جبیر سے انھوں نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) سے دریافت کیا گیا کہ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احرام باندھنے کے متعلق اختلاف کیا ہے بعض نے کہا مسجد سے باندھا بعض نے کہا جب اونٹنی پر سیدھے بیٹھ گئے اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بعض نے کہا جب آپ مقام بیداء پر پہنچے اس وقت احرام باندھا تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے آؤ میں تمہیں وجہ اختلاف کی نشاندہی کرتا ہوں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد سے احرام باندھا جن لوگوں نے آپ کو اس وقت دیکھا انھوں نے اس کو بیان کردیا۔ پھر جب آپ اونٹنی پر برابر بیٹھ گئے تو اس وقت تلبیہ کہا تو اس موقعہ پر جن لوگوں نے دیکھا انھوں نے پہلے آپ کا تلبیہ نہ سنا تھا تو انھوں نے بیان کردیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی احرام باندھا ہے پھر جب آپ بیداء پہاڑی پر چڑھے تو تلبیہ کہا اس وقت ان لوگوں نے دیکھا جنہوں نے پہلی دو مرتبہ نہ دیکھا تھا تو انھوں نے مقام بیداء سے احرام کی خبر دی درحقیقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احرام باندھنا وہ مسجد ہی سے تھا۔ تو حضرت ابن عباس (رض) نے وہ وجہ بیان کردی جس سے ان میں اختلاف پیدا ہوا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احرام باندھنا جس سے حج کی ابتداء ہوتی ہے اور آدمی حج میں داخل ہوجاتا ہے وہ مسجد ہی سے تھا ۔ اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں ہم اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں آدمی کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ احرام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نماز ادا کرے پھر ان کے بعد وہ احرام باندھے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا اور یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن بن محمد (رح) نے اس سلسلہ میں کچھ روایت کیا ہے جو ابن عباس (رض) سے مروی ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک باب ٢١۔
حاصل روایات : حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں یہ بتلا دیا گیا کہ اصل اختلاف کا سبب کیا تھا اور آپ نے احرام دراصل مسجد ہی سے باندھا تھا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی احرام باندھے تو دو رکعت نماز ادا کرے پھر ان کے بعد تلبیہ کہے یہی مسنون طریق احرام ہے۔
یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ تعالیٰ کا ہے۔
تائیدی قول :
امام حسن بن محمد بن علی (رح) نے ابن عباس (رض) جیسی بات کہی ہے۔